وزیراعلیٰ کے پی نے مارچ کیلیے ایک کھرب 59 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا

وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے ماہ مارچ کے لے ایک کھرب 59 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا۔

اس حوالے سے سیکریٹری فنانس امر ترین نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس میں مارچ کے مہینے کا ایڈوانس اپروول گرانٹس لیا جائے گا، صوبائی کابینہ موجود نہیں تو آئین آرٹیکل 125 کے ٹحت براہ راست اسمبلی سے اجازت لی جائے گی، مارچ کے مہینے کے لیے 5۔195 بلین روپے کی منظوری لی جائے گی۔

سیکرٹری فنانس نے بتایا کہ صوبائی کابینہ آنے کے بعد رواں سال کے مکمل بجٹ کی منظوری لی جائے گی، آٹھ ماہ نگران حکومت اور آئندہ تین ماہ کے بجٹ کی منظوری نئی تشکیل پانے والی کابینہ سے لی جائے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن کے رکن احمد کریم کنڈی نے بتایا ہے کہ آئین میں بجٹ صوبائی حکومت پیش کرے گی ابھی صوبے میں حکومت نہیں بنی، صرف وزیراعلی حکومت نہیں ہوتے حکومت پوری کابینہ ہوتی ہے، یہ بجٹ پیش کرنا غیر آئینی ہے۔

احمد کریم کنڈی نے کہا ہے کہ رول 150 دیکھ لیں، آئین کو بلڈوز نہ کریں صرف وزیر اعلی حکومت نہیں یہ غیر دستوری کام نہ کریں، کم از کم رولز آف بزنس کے تحت کم از کم دو ارکین پر مبنی کابینہ کا اعلان تو کریں۔