اچکزئی کے گھر چھاپے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ، شہباز شریف برہم

قومی اسمبلی کے اجلاس میں صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے پر ہنگامہ ہوا ہے، جبکہ نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں محمود خان اچکزئی کا احترام کرتا ہوں، لیکن ذاتیات کی بات ہوگی تو بات دور تک جائے گی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت جاری ہے، سیاسی رہبنماؤں نے سنی اتحاد کونسل لے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر چھاپے کی مذمت کی ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں محمود خان اچکزئی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی کہ ان کے الفاظ حذف کردیں، جس پر ایاز صادق نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی ذاتیات پر بات نہ کریں۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں پانچویں دفعہ اس ایوان کا ممبر منتخب ہوا ہوں، ہم آئین کی پاسداری اور حفاظت کرنے کا حلف تو لیتے ہیں، یہ آئین ہی ہے جس نے ہم سب کو جوڑے رکھا ہے، پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے کی پاداش میں میرے گھر پر حملہ ہوا۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ نہ میں نے کوئی جذباتی تقریر کرنی ہے نہ کسی کو بے عزت کرنا ہے، ہمارے گھر پر 15 سال سے لڑائی ٹھونس دی، ہمارے 200 افراد مرے، یہ ملک ایک جماعت سے نہیں چلے گا، ملک کو بحران سے نکالنا ہے تو آئیے مل کر بیٹھیں، اس پارلیمنٹ میں جاسوسی اداروں کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

پی ٹی آئی رہنما عمرایوب نے قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کل میں پارٹی کی طرف وزارت اعظمی کا امیدوار تھا، میری جماعت نے مجھے 92 ووٹ دیے تھے، میں تقریر کر رہا تھا تو اس کا ایک لفظ بھی حذف نہیں کیا گیا میری تقریر کو مکمل طور پر براہ راست نہیں دکھایا گیا جبکہ سرکاری ٹی وی پر شہباز شریف کی تقریر براہ راست دکھائی گئی۔

عمر ایوب نے کہا کہ کل محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور ان کے گھر سے 2 گارڈز کو اٹھایا گیا، ہم محمود اچکزئی کے گھر چھاپے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف قرارداد پیش کریں گے، ہمارے کارکن پر تشدد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے نامزد صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے گھر چھاپے کی مذمت کردی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے صبح پتہ چلا کہ محمود اچکزئی کے گھر چھاپہ مارا گیا، چھاپہ مار کر صدارتی الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بلاول بھٹو نے شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے چھاپے کے خلاف ایکشن لینے کی اپیل کی۔