نگران کابینہ نے ایرانی بارڈر سے گوادر تک گیس پائپ لائن بچھانے کے فیصلے کی توثیق کر دی

نگران کابینہ نے ایرانی بارڈر سے گوادر تک گیس پائپ لائن بچھانے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔

گذشتہ دنوں پاکستان نے آئی پی گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا اور کابینہ توانائی کمیٹی نے ایرانی بارڈر سے گوادر تک 81 کلومیٹر پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی تھی۔  تاہم اب نگران کابینہ نے ایرانی بارڈر سے گوادر تک پائپ لائن بچھانے کی توثیق کر دی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران کابینہ نے کابینہ کمیٹی کے ایرانی بارڈر سے گوادر تک 81 کلومیٹر گیس پائپ لائن بچھانے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ ذرائع کے مطابق نگران کابینہ نے سمری سرکولیشن کے ذریعے فیصلے کی توثیق کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پائپ لائن بچھانے سے پاکستان 18 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی سے بچ جائے گا جبکہ ایل این جی کے مقابلے میں ایران سے 750 ملین کیوبک فٹ گیس انتہائی سستی ملے گی۔

ذرائع کے مطابق ایران سے گیس خریدنے کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ 5 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوگی اور ایران فرنچ قانون کے تحت 18 ارب ڈالر جرمانے کا نوٹس واپس لے گا جبکہ پاکستان امریکا سے آئی پی منصوبے پر پابندیوں سے استثنا مانگے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ترکی، عراق اور آذربائیجان کے ساتھ گیس کی خرید و فروخت کر رہا ہے، جس پر پابندیاں نہیں، ایرانی بارڈر سے گوادر تک پائپ لائن کی تعمیر پر 45 ارب روپے لاگت آئے گی۔