جنوبی وزیرستان : پلینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اربن پالیسی اینڈ پلینگ یونٹ پراونشل لینڈ یوز پلین کے حوالے میٹنگ

وانا: جنوبی وزیرستان لوئر کو پلینگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اربن پالیسی اینڈ پلینگ یونٹ پراونشل لینڈ یوز پلین کے حوالے میٹنگ، وانا نمائندہ وفد نے ضلع جنوبی وزیرستان لوئر ماڈل ضلع بنانے کیلئے تجاویز و مطالبات پیش کی .

انگور اڈا ٹرمینل پر کانٹینر گاڑیوں کی آسانی کیلے اسلام آباد ڈی آئی خان موٹر وے کے یارک انٹرچینج سے براستہ گومل زام روڈ موٹر وے لنک دینا اور وانا ژوب کو ایکسپریس وے بنانا۔ تاکہ پاکستان کا کاروباری ہب لاہور کو افغانستان کے کاروباری ہب غزانی سے شارٹ روٹ سے منسلک کیا جا سکے۔اور ساتھ انگوراڈا کو گوادر سے بھی ژوب کے راستے لنک مل سکے

کاروبار کو فروغ دینے کیلے وانا مین بازار بشمول تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں پولیس کو فعال کرنا ہوگا۔اور وانا بازار میں ویلڈنگ دکانوں،برف خانوں،فلور میلز اور تمام دکانداروں کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنا

وانا بازار بشمول تمام مین بازاروں میں یوٹیلٹی سٹور قائم کرنا

وانا آئرپورٹ سے ڈومیسٹک فلائٹ کا آغاز کرنا۔وانا میں ایک انٹرنیشنل بس ٹرمینل کی تعمیر شروع کرنا جس کیلے فنڈ دو سال پہلے منظور ہو چکی ہیں۔اور وانا سے غزنی کابل کیلے بسوں کی منظوری دینا۔اور لاہور،پشاور،کراچی اور اسلا آباد کیلے بس ٹرمینل میں سہولت دینا۔

ذراعت کی بچانے کیلے زالئ ڈیم،شکائی ڈیم زرمیلن ڈیم،نارے اوبہ انضر،تیارزہ مستی خیل،زخسین ہندی کچ اور سرکی خیل کژہ پنگہ اور منز ایبہ ڈیم پر کام شروع کرنا۔

زمیندار کو بغیر سود کے قرض دینے کیلے وانا کو زرعی بنک کا برانچ دینا

چلغوزہ کی تحفظ کیلے ایگری پارک میں موجود پرسسنگ پلانٹ کو فعال کرنا اور ساتھ ایگری پارک کو محکمہ ذراعت کے حوالے کرنا۔پانی ،بجلی کا مسلہ حل کرنا اور زمینداروں کی سہولت کیلے ایک بنک برانچ قائم کرنا

وانا میڈیکل کالج کا قیام جسکا سابقہ وزیر اعلی محمود خان صاحب نے اعلان کیا تھا

وانا کیلے پیرا میڈیکل انسٹی ٹیوشن کی منظوری اور وانا ہیڈکواٹر ھسپتال کو ٹیچنگ ھسپتال کا درجہ دینا۔

میرانشاہ ڈسٹرک ہیڈ کواٹر ھسپتال کیطرح وانا ہیڈ کواٹر ھسپتال میں Health Care Commision (HCC) & Heelth Regularity Authorty (HRA) o کے آفسسز کھول دی جاِئیں۔

وانا ویمن اینڈ چیلڈرن ھسپتال کو پرانا سول ھسپتال کے زمین پر تعمیر کرنا جسکا ADP منظوری میں منظوری ہوئی ہیں۔اور ساتھ FC کمانڈیٹ ھسپتال کی زمین پر قبضہ کرنے سے باز رہنا

ہیڈ کواٹر ھسپتال وانا کی طرز پر ڈاکٹرز اور ٹیچنگ سٹاف کی حاضری یقینی بنانے کیلے تمام بڑے ھسپتالوں،کالجز،ھائر اینڈ ھائی سکولوں میں بائیو میٹرک سسٹم لگانا

وانا ڈگری کالج کو پوسٹ گریجویٹ کا درجہ دینا،وانا کو یونیورسٹی کیمپس دینا جسکا وعدہ اور سروے سابقہ MNA غالب خان کے دور میں ہوا تھا۔اور ساتھ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا برانچ جس کا MNA علی وزیر سے وعدہ ہوا تھا۔

ریسکیو 1122 کے آفس پر کام شروع کرنا۔

کمانڈٹ ایف سی بے جا مداخلت سے باز رہنا اور ہمیں احتجاج اور عدالت جانے پر مجبور نہ کرنا لوکل سڑکے۔

گنگی خیل سٹیشن ٹو کڑی کوٹ،ڈاکٹر بادشاجان کوٹ ٹو پتنئ،کرمزخیل سٹیشن ٹو فقیرون کلے،شین ورسک پل سے کلوتائی اعظم ورسک روڈ کو جلد تکمیل کرنا ۔

اعظم ورسک سے براستہ لر خو انگور اڈا بارڈر۔ب: تیارزہ مستی خیل سے ایگری پارک ٹو پتنی روڈ ت:سیر پل وانا سٹی سے بارستہ سی کچ الیوم غواخواہ روڈ۔ث: زیڑی نور موڑسے پراستہ گورکوارا جونی میلہ سنگہ شکائ۔ج:شکائی خارنگ روڈ اور ساتھ سب سے اہم روڈ کرب کوٹ ٹو ٹھٹھی ثمر باغ روڈ کی منظوری دینا۔

وانا سمال انڈسٹری زون کیلے فنڈ مختص کرکے جلد از جلد کام شروع کرنا

توئی خوالہ نادرا کو جلد ازجلد سٹارٹ کرنا ،اعظم ورسک نادرا پر کام شروع کرنا تحصیل شکائی کیلے الگ نادرا سنٹر اور انگوراڈا بارڈر پر CFC کا قیام۔تاکہ وانا نادرا آفس پر عوام کا رش کم ہو جائیں۔

وانا میں اقلیتی برادری کیلے ایک الگ رہاہشی کالونی کی تعمیر جس میں انکو سکول گرجا بشمول تمام سہولیات موجود ہوں

زمینی تنازعات کو ہیمشہ کیلے ختم کرنے کیلے AC روینیوں کو جلد پوسٹنگ کرنا اور پٹوار وغیرہ کی کمی کو پورا کرکے لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنا۔
گومل زام ڈیم جو 17.4 میگاوٹ بجلی پیداکرتے ہیں۔

اس کے بجلی کو ضلع جنوبی وزیرستان لوئر و اپر کے عوام کو دینا۔اور ساتھ ایک 8.7 میگاواٹ پاور جنیریشن مشین جو چار سال سے خراب پڑا ہیں۔اس کو ٹھیک کرنا.ڈیم کی مچھلی کے ٹھیکے کا اختیار فیشری ڈیپارمنٹ کو دینا اور اوپن ٹینڈر کرنا۔

پورے ضلع میں 3G,4G کی بحالی

ٹوریزم کو پروموٹ کرنے کیلے گومل زام ڈیم،شکائی مڑسردینہ،خامرنگ اور مرغہ چنہ انگور اڈا پر ٹوریسٹ کیلے رہائش اور تمام سہولیات کا بندوبست کرنا

ساؤتھ وزیرستان کی %70 انحصار زراعت پر ہے جس میں سالانہ 9000سے لیکر 10000 تک ٹرک سیب ،الوچہ، آڑو وانا سے پاکستان کے دوسرے شہریوں کی جاتی ہیں لیکن کبھی کبھار راستے یا بارشوں کی وجہ سے ہمارے میوہ جات ضائع ہو جاتی ہیں لہذا اگر اس کے لئے وانا میں ایک یا دو جوس فیکٹری بن جائے تو بہت بہتر ہوگا ،

اسکے کے علاوہ وانا میں ہر موسم میں مختلف سبزیاں پیدا ہوتے ہیں اگر اس کے لئے ٹنل دیا جائے تو لوگ اس سے زیادہ مستفید ہونگے اور ساتھ سبزی کی پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا

معدنیات کے کے حوالے سے

ساؤتھ وزیرستان میں معدنیات کے ذخائر موجود ہیں لیکن ڑماہرین کی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہیں علاقہ گومل ، شنہ خوڑہ، نیلی کچ، کشمیر کاٹ، سپلمئی وغیرہ کے علاقوں میں کوئلہ ، کاپر،کرومائیڈ ، تانبا ،ماربل،تیل، چونا اور سونے کی معدنیات وافر مقدار میں موجود ہیں

اسکے علاوہ تحصیل برمل میں علاقہ سپیرہ غر،مانز ایبہ، وغیرہ کے علاقوں میں معدنیات موجود ہیں

ان معدنیات کے حصول کے لئے ماہرین کی ٹیمیں اور روڈ کی ضرورت ہے نمر1، ژوب سے لینک روڈ براستہ زووہ اور غورلیری کے درمیان سپین بند سے ہوتے ہوئے سپلمئے ، شیرینی خلہ، زلوانئے سے تحصیل کلاچی سی پیک تک نمبر2، اعظم ورسک سے لیکر زالئی ، سرکنڈہ،نز میرئے سے راڈون افغانستان باڈر تک اس روڈ پر تحصیل برمل کی ابادی آدھی سے زیادہ ہے اور یہ روڈ وانا سے باڈر تک بہت نزدیک پڑتا ہیں

تحصیل برمل میں علاقہ تورہ گولہ سے شمال کی طرف سرہ کنڈہ تک اور مغرب کی طرف بومائی سپیرہ غر،اور جنوب کی طرف خانڈ تک اس درمیان میں ہزاروں ایکڑ کی تعداد میں زمین ہیں لیکن بنجر ہے اگر اس کے لئے علاقہ مانز ایبہ کے مقام پر ڈیم بنایا جائے اور ڈیم کی موضوع جگہ ہیں اور ساتھ اس علاقے کے لئے اگر گورنمنٹ سبسیڈی پر مشینری دیا جائے تو ایک انقلاب برپا ہو جائے گا .