مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی وفد کے درمیان ملاقات ، اندرونی کہانی سامنے آگئی

پی ٹی آئی وفد کی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان سے ملاقات میں مزید رابطوں پر اتفاق کر لیا گیا، دونوں جماعتیں مزید ملاقاتوں سے معاملات آگے بڑھائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان سے پی ٹی آئی وفد کی ملاقات کا احوال سامنے آگیا ، ملاقات میں دونوں جماعتیں میں مزید رابطوں پر اتفاق کر لیا گیا اور کہا دونوں جماعتیں مزید ملاقاتوں سےمعاملات آگے بڑھائیں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ اچانک زیادہ قربت سےپارٹی رہنماؤں،کارکنوں کیلئے مسائل ہوں گے ، جے یو آئی اور پی ٹی آئی رہنما مزید ملاقاتوں سے معاملات آگے بڑھائیں گے،ذرائع

مولانا فضل الرحمان نےبتایا کس طرح ان کےساتھ دھاندلی ہوئی، جے یوآئی اورپی ٹی آئی پارلیمان میں بھی مل کر چلیں گے۔

یاد رہے گذشتہ روز بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر اسد قیصرکی سربراہی میں چھے رکنی وفد جے یوآئی ایف کی قیادت سے ملا، مولانافضل الرحمان نے خندہ پیشانی سے خیرمقدم کیا۔

ذرائع کا بتانا تھا کہ ملاقات میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی ودیگر تحفظات پر تبادلہ خیال کیا گیا، پی ٹی آئی وفد نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام مولانا فضل الرحمان تک پہنچایا تھا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے مبینہ دھاندلی کے خلاف اور اپوزیشن میں ساتھ چلنے کی دعوت دی، اس موقع پر عامر ڈوگر نے کہا کہ انشا اللہ سرپرائز دیں گے، پی ٹی آئی کی اکثریت ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگومیں حافظ حمداللہ نے کہا تھا کہ جے یو آئی ایف اور پی ٹی آئی دونوں متفق ہیں الیکشن دھاندلی زدہ اورغیرشفاف تھے،الیکشن سےملک میں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آئےگا، آگے کیا ہوتا ہے اس کوآگے پر چھوڑدیاگیا۔

بیرسٹرسیف کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کو بھی الیکشن پرتحفظات ہیں،اس ایک نکتے پر اتفاق ہوا انتخابات غیرجانبدارانہ نہیں تھے، عوام اور سیاسی جماعتیں الیکشن کو مسترد کرتی ہیں،اس وقت تک تحریک چلائیں گےاحتجاج کرینگےجب تک عوام کوغصب شدہ حق نہیں ملتا۔