پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کا تاج خاتون کے سر سجے گا

چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز شریف پنجاب کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ پنجاب ہونگی۔ پچاس سالہ مریم نواز شریف کا سیاسی سفر تقریباً دو دہائیوں پر محیط ہے۔

نیب کیسز ہوں یا حکومتی جبر، مریم نواز نے والد کے ہمراہ سختیوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا جبکہ قید بند کہ صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

شریف فیملی سے قائد مسلم لیگ ن نواز شریف، صدر مسلم لیگ شہباز شریف، نائب صدر مسلم لیگ ن حمزہ شہباز بھی وزیراعلی پنجاب رہ چکے ہیں۔

شریف فیملی سے مریم نواز چوتھی شخصیت ہیں جو وزیراعلی پنجاب بننے جا رہی ہیں۔ مریم نواز 23 اکتوبر 1973 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔

کانوینٹ سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیکل کی طالبہ رہیں، تاہم ایڈمیشن متنازع ہونے پر ایم بی بی ایس کو جاری نہ رکھ سکیں۔

مریم نواز صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 159 سے رکن پنجاب اسمبلی جبکہ این اے 119 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔

مریم نواز پہلی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئیں، جبکہ 2018 میں ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے تھے۔

مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس، العزیزیہ کیس سمیت دیگر کیسز کا سامنا کیا، جبکہ والد نواز شریف کیساتھ جیل میں بھی رہیں، تمام کیسز میں بریت پر دوبارہ الیکشن لڑا اور دو حلقوں سے کامیاب ہوئیں۔

صدرمسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے پاس عددی اکثریت ہے، اس لیے وزیراعلی پنجاب کے حوالے سے فیصلہ ہوگیا ہے کہ مریم نواز ہی وزیراعلی پنجاب ہونگی۔