افغان سرزمین سے پاکستان کو خطرہ ہے، قابل قبول ثبوت دئیے ہیں، انوار الحق کاکڑ

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین  پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے شواہد افغان حکومت سے شیئر کیے ہیں.

انہوں نے کچھ مسائل کو قبول بھی کیا ہے۔ افغان میڈیا طلوع نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نگران  وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ہماری فوج اور انٹیلی جنس نے شواہد افغان حکومت سے شیئر کیے ہیں، ہم نے کبھی افغان حکومت پر پاکستان کو نقصان  پہنچانے کا الزام نہیں لگایا، میں اب بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ افغان سرزمین سے پاکستان کو خطرہ ہے۔

افغان ٹی وی کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میرے ذاتی خیال میں افغان حکومت کو ابھی مزید وقت دینا چاہیے، مزید وقت دیا جائے تاکہ افغان حکومت کا افغانستان کے مکمل علاقے پر کنٹرول ہو جائے، امارت اسلامیہ کا کنٹرول ابھی پورے ملک پر دکھائی نہیں دیتا۔

پاکستان کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم انور حق کاکڑ نے طلوع نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی عبوری حکومت کے تسلیم کرنیکے حوالے سے علاقائی اور عالمی اتفاق رائے کی ضرورت ہے اور جب تک خطے اور دنیا کے ممالک اس بارے میں فیصلہ نہیں کرتے.

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تک افغانستان عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کر سکتا، روس اور چین جیسے علاقائی ممالک افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔

افغان ٹی وی نے ڈیورنڈ لائن کو فرضی لکیر قرار دیتے ہوئے بات کی تو نگران وزیراعظم کاکڑ نے ڈیورنڈ لائن کے بین الاقوامی سرحد ہونے پر اصرار کرتے ہوئے پاکستانی موقف کو دہرایا، اقوام متحدہ اور 200 سے زائد ممالک اسے دو ممالک کے درمیان بین الاقوامی سرحد ہی تسلیم کرتے ہیں۔ نگران وزیراعظم نے ڈرون سمیت ہر قسم کے غیرملکی جہازوں کو افغانستان کیخلاف پاکستانی سرزمین کے استعمال کی اجازت کو رد کیا۔