پاکستان کا ایران کو جواب بھارت سمیت پورے خطےکیلئے پیغام تھا: نگران وزیراعظم

نگران  وزیراعظم  انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہےکہ پاکستان کا ایران کو جواب بھارت سمیت  پورے  خطےکے لیے پیغام تھا۔

نجی ٹی وی کو  دیےگئے انٹرویو میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ  ایران کو جواب  نہ دینے کا  کوئی آپشن نہیں تھا، ایران  کو  جواب  دینےکا کریڈٹ پاک  فوج کی قیادت خصوصاً   آرمی چیف کو جاتا ہے۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کاایران کو جواب پورے خطے کے لیے پیغام تھا، ایران کو جواب یقیناً بھارت کے لیے پیغام تھا، سیاسی صورتحال کے باوجود پاکستان کے اقدام کوپوری قوم نے سپورٹ کیا۔

انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ یہ مشکل فیصلہ اس لیے تھاکہ بھارت سے ایسی کارروائی ہوتی ہے تو ہم بالکل کلیئر ہیں کہ جواب دینا ہے، دنیا دیکھ رہی تھی کہ پاکستان کیا ردعمل دیتا ہے،  ایران کی کارروائی کو  ان کا غلط فیصلہ سمجھا جبھی جواب دیا گیا.

ایران کے اقدام کو درست سمجھتے تو  چپ کرجاتے، ایران کے اقدام کی منطق سمجھ نہیں آئی کہ رابطے کے تمام چینلز موجود تھے، اس دوران ڈیووس میں ایران کے وزیرخارجہ سے بھی میری ملاقات ہوئی تھی۔

انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بہت سےلوگ زور دے رہے تھےکہ  میں  بیان جاری کروں تاہم میں نےگریز کیا، بیان اس لیے جاری نہیں کیا کہ جب ہمارا جواب  آئےگا تو  ہمارا اظہار یہی ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہمارا کوئی سرحدی تنازع  نہیں، ایران کے بعض افراد یا گروہوں پر تحفظات  رہے ہیں تاہم پاکستان کے تحفظات  ان  سے زیادہ  ہیں، ایران کے حملے میں ہمارے شہری جاں بحق ہوئے، پاکستان کی جوابی کارروائی میں شرپسندوں کو ختم کیا گیا، ایران نے تسلیم کیا کہ پاکستانی کارروائی میں مارے گئے افراد غیر ملکی تھے، غیر ملکیوں کا وہاں کیا کام تھا اسی پر  ایران کی بار بار توجہ دلائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ  انٹیلیجنس اور ملٹری سطح  پر چینلز کو بروئےکار لاکر پاک ایران سرحد صورتحال مزید مستحکم ہوگی۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایران نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کے علاقے پنگجور میں ایک چھوٹے سے گاؤں پر میزائل حملےکیے جس میں 2 بچیاں شہید اور 3 زخمی ہوگئی تھیں۔

پاکستان نے ایران کے سفیر کو ملک بدر اور اپنے تہران میں تعینات سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔

پاکستان نے اگلے روز ہی ایران کے حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے سیستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا  تھا جس میں متعدد دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔