تین مہینے بعد ڈالر کے ریٹ 280 روپے سے نیچے آگئے

زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ بدستور تگڑا رہا، جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 11 ہفتے بعد 280 روپے سے نیچے آگئے۔

آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہونے کے بعد زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 9 ارب ڈالر سے متجاوز ہونے کے تخمینے، دسمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوکر 6 ماہ کی بلند سطح پر آنے اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھنے جیسے عوامل کے باعث جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔

ایک موقع پر ڈالر کا انٹربینک ریٹ 55 پیسے کی کمی سے 279 روپے 50 پیسے کی سطح پر بھی آگیا تھا لیکن اس دوران وقفے وقفے سے درآمدی ادائیگیوں کی ضروریات کے لیے ڈیمانڈ آنے سے کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 13 پیسے کی کمی سے 279 روپے 97 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں محدود پیمانے پر ڈیمانڈ بڑھنے سے ڈالر کی قدر صرف 2 پیسے کے اضافے سے 280 روپے 75 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس رول اوور ہونے سے بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ گھٹ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا حجم بڑھنے اور عالمی سطح پر معیشت کی بہتر ہوتی ساکھ کو دیکھتے ہوئے غیرملکی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے علاوہ اپنے کاروبار کو توسیع دینے کی منصوبہ بندی جیسے عوامل روپیہ کو مستحکم کرنے باعث بن رہے ہیں۔