پی ٹی آئی نے اپنا انتخابی نشان کھویا ہے، سیاسی جماعت کی حیثیت نہیں: الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے دی نیوز کو بتایا کہ پی ٹی آئی کی رجسٹریشن ختم نہیں کی گئی بلکہ صرف آئندہ انتخابات کیلئے انتخابی نشان واپس لیا گیا ہے کیونکہ پی ٹی آئی قانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کرانے میں ناکام رہی۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا 8؍ فروری کے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں یا نہیں تو اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک قانونی نوعیت کا سوال ہے جس کے جواب کیلئے الیکشن کمیشن کے لیگل ونگ کو اس کا جائزہ لینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لیگل ونگ کو پی ٹی آئی کا انتخابی نشان واپس لیے جانے کے قانونی اثرات کا جائزہ لینا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا کامیاب آزاد امیدوار قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں یا نہیں۔

سابق چیئرمین سینیٹ اور آئین کے ماہر وسیم سجاد نے رابطہ کرنے پر اس نمائندے کو بتایا کہ اگرچہ یہ معاملہ پریشان کُن ہے لیکن اُن کی رائے میں انتخابی نشان واپس لے کر پی ٹی آئی کو صرف الیکشن لڑنے سے روکا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کی رجسٹریشن ختم نہیں کی لہٰذا پارٹی کا وجود باقی ہے اور کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار کسی دوسری جماعت کی طرح پی ٹی آئی میں بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

پیر کو سابق اٹارنی جنرل اور سینئر وکیل انور منصور نے دی نیوز کو بتایا تھا کہ انتخابات کے بعد کامیاب ہونے والے آزاد امیداروں کے پاس پی ٹی آئی میں شمولیت کا آپشن ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار آئندہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

تاہم، الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کی رائے تھی کہ جو سیاسی جماعت اپنے انتخابی نشان سے محروم ہو جائے وہ اپنی باضابطہ حیثیت بھی کھو دیتی ہے اور الیکشن کمیشن سے ڈی رجسٹر ہو جاتی ہے۔