پاک افغان بارڈر انگور آڈہ گیٹ پر یکم فروری سے ویزا اور پاسپورٹ پر انے جانے کی پمفلٹس چسپا

طورخم اور چمن بارڈر کیطرح پاکستانی حکام کی جانب سے پاک افغان بارڈر انگور آڈہ گیٹ پر یکم فروری سے ویزا اور پاسپورٹ پر انے جانے کی پمفلٹس چسپا کردئے گئے ہیں ، اس بابت انگور آڈہ گیٹ پر جاری دھرنے منتظمین نے ویزا اور پاسپورٹ پالیسی کو پشتون قوم میں ڈیوائڈ ڈ اینڈ رول پالیسی قرار دیکر یکسر مسترد کردیا ۔

پاک افغان بارڈر انگوراڈہ پراپنے مطالبات منوانے کیلئے دو مہینے سے زائد عرصہ سے جاری دھرنا منتظمین محب وزیر، ڈاکٹر عبدالله وزیر اور سیاسی رہنما سیدمحمد وزیر نے اخباری نمائندوں سے بات کی ہے.

انہوں نے کہا کہ انگور آڈہ گیٹ پر دھرنا اسلیے دیا ہیں کہ پاک افغان بارڈر انگور آڈہ گیٹ پر ار پار اباد قبائل جو وزیر قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کو حکومت وقت نے یقین دہائی کرائی تھی کہ سرحد کے ار پار اباد وزیر اور محسود قبائل کو ویزا اور پاسپورٹ پالیسی سے استثنی حاصل ہوگا۔

محب وزیر نے کہاکہ ہم وزیر قبائل حکومت کی مذکورہ پالیسی کو کبھی نہیں مانیں گے، دو مہینے سے زائد عرصہ پر محیط دھرنا کو مزید تقویت دینگے

دوسری جانب پاکستانی حکام نے مذکورہ چسپا ہونے والی پمفلٹس میں واضح کیا ہے، کہ مریضوں ودیگر معذور افراد کے لیے اسپیشل رعایت ہوگی ۔

یاد رہے کہ پاک افغان بارڈر انگور آڈہ گیٹ پر احمدزئی وزیر قبائل کے چار اقوام زلی خیل ، توجئے خیل ، گنگی خیل اور خوجل خیل نے مذکورہ پالیسی اور تجارتی ماحول کو ثبو تاژ کرنے بارے پچھلے 60 دنوں سے دھرنا دے رکھا ہیں

انہوں نے کہا ہے کہ ے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے نقصان ہورہا ہیں اور احمد زئی وزیر قبائل جو کہ انگوراڈہ بارڈر کے آرپار آباد ہیں ان کو بھی مشکلات کا سامنہ ہے.

ان کا کہنا ہے،کہ ہم نے ہمارا دھرنا اپنے جائز مطالبات کے حق میں جاری رہیگا،ان مطالبات میں زندگی کے بنیادی حقوق جیسے ،بجلی ،صحت،اور مواصلات کے علاؤہ تعلیم اور پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔