اسلام آباد، پاراچنار روڈ پر مسلسل دہشتگردی کیخلاف کرم کے شیعہ، سنی عمائدین کا مشترکہ احتجاج

پشاور پاراچنار روڈ پر مسلسل دہشتگردی کے واقعات کے خلاف کرم کے شیعہ، سنی عمائدین و شہریوں نے مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر پاراچنار صدہ بائی پاس پر مسافر گاڑیوں پر حملوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر شبیر حسین نے کہا کہ پچھلے کئی سال سے پاراچنار کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور اپر کرم کے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر یا گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں پر فائرنگ کرکے قتل کیا جا رہا ہے، ہر چند ماہ بعد علاقے کی صورتحال کشیدہ ہو جاتی ہے۔

ریٹائرڈ آئی جی سید ارشاد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کی حفاظت کرنا سیکورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے، قانوں نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے ناکام نظر آتے ہیں، اگر سیکورٹی ادارے  علاقے میں رٹ قائم کرنے میں ناکام ہے تو ہمیں صاف بتا دیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی صدر علامہ جہانزیب جعفری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کرم مسلسل دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے، ریاست نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور دہشگرد عناصر کو کھلی آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ بے گناہ افراد کا خون بہائیں اور با آسانی نکل جائیں۔

کل کے واقعہ میں شہید ہونے والی خاتون ڈاکٹر رقیہ قوم کا سرمایہ تھیں۔ مگر دہشتگردوں نے عورتوں کا بھی لحاظ نہیں رکھا۔ انہیں بھی شہید کردیا۔ دہشگرد عناصر کو نا ہی قانون کا خوف ہے نہ ہی علاقے کی روایات کا پاس ہے۔

ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور علاقے میں اپنی رٹ قائم کریں، ایسا نہ ہو کہ یہ احتجاج ملک بھر میں شروع ہو جائے۔ احتجاجی مظاہرے سے سوشل اویئرنس کے صدر اسحاق خان نے بھی خطاب کیا، جہنوں نے ضلع کرم میں مسلسل جاری دہشتگردی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔