دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک میں سیاسی تناو ختم کرنے کی ضرورت ہے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ جن پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں وہ ملک میں جمہوری استحکام نہیں چاہتیں، بعض سیاسی پارٹیاں بھی الیکشن ملتوی کرنے کی خواہش رکھتی ہیں، یہ حسب سابق الیکشن نتائج کے حوالے سے بھی این آر او کے انتظار میں ہیں۔ ملک کی معاشی ترقی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو لانگ ٹرم منصوبہ پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

جماعت اسلامی ہر شعبہ میں اصلاحات چاہتی ہے، اقتدار میں آ کر غیرترقیاتی اخراجات کم کر کے تعلیم اور روزگار پر خرچ کریں گے، تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ بطور سابق وزیرخزانہ خیبرپختونخوا صوبے کو قرض فری بنایا، آج کے پی پر ہزاروں ارب قرضہ ہے۔

حکمرانوں کی نالائقیوں کی وجہ سے قومی وسائل مس مینجمنٹ اور کرپشن کی نذرہو جاتے ہیں۔ قوم 8فروری کو ترازو پر اعتماد کا اظہار کرے، ملک میں جمہور کی حکمرانی اور قرآن و سنت کی بالادستی کو یقینی بنائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ثمرباغ دیرپائن میں اپنے حلقہ انتخاب این اے 6 انتخابی دفتر کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

امیر جماعت نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک میں سیاسی تنا وختم کرنے کی ضرورت ہے، بدامنی کا علاج ملک میں مضبوط حکومت کا قیام ہے، سابقہ حکومتیں سیکیورٹی بہتر بنانے کی بجائے اپنی بقا کی جنگ لڑتی رہیں، حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کریں، امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر ملک میں امن اور خوشحالی لائے گی، سودی معیشت کاخاتمہ کریں گے، عوام کو ٹیکسز کے بوسیدہ نظام سے نجات دلا کر زکوۃ اور عشر کی بنیادوں پر قومی معیشت کو استوار کیا جائے گا، قومی وسائل کی بندر بانٹ ختم کر کے ان کا رخ عوام کی فلاح و بہبود کی طرف موڑا جائے گا۔