نقیب محسود کے والد سپرد خاک کر دیے گئے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی رہنماء اور کراچی میں ماورائےعدالت قتل کئے جانے والے نقیب اللہ محسود کے والد ملک محمد خان محسود کی نماز جنازہ آج ٹانک ٹاون ہال میں ادا کردی گئی۔

ملک محمد خان محسود عرصہ دراز سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور وہ گزشتہ ایک ماہ سے راولپنڈی سی ایم ایچ ہسپتال میں زیر علاج تھے لیکن مرحوم بیماری کے باوجود اپنے بیٹے نقیب اللہ کے لیے انصاف مانگنے کے لیے وقتا فوقتا عدالت کا دروازے کھٹکٹاتے تھے لیکن ان کی زندگی میں بیٹے کو انصاف کو نہ مل سکا۔

وہ گزشتہ روز خالق حقیقی سے جاملے، آج نماز جنازہ میں عسکری و سول افسران کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں علاقہ مشران اور لوگوں نے شرکت کی، جنازہ ٹانک ٹاون ہال میں ادا کردیا گیا بعد میں مرحوم کی جسد خاکی کو ان کی آبائی گاوں جنوبی وزیرستان مکین روانہ کردیا گیا جہاں ان کو سپرد خاک کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ جنوری 2018 میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ کو ایس ایس پی راؤ انوار کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔

اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔

نقیب اللہ کے قریبی عزیز نے بتایا تھا کہ جنوری میں نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ پر واقع کپڑوں کی دکان سے سادہ لباس افراد مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے تھے جبکہ 13 جنوری کو پتہ چلا تھا کہ اسے مقابلے میں قتل کردیا گیا۔

بعد ازاں اس واقعے پر احتجاج کے بعد راؤ انوار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور تمام خفیہ اداروں کو پولیس سے تعاون کرنے کا حکم دیا تھا۔ خیال رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس ابھی بھی عدالت میں زیرسماعت ہے۔