بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 147 واں یوم پیدائش عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا

ملک بھر میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 147 واں یوم پیدائش انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔

آج صبح مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقار تقریب بھی ہوئی جس میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے چاق چوبند دستے نے مزار پر گارڈز کے فرائض سنبھال لیے، مہمان خصوصی میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے مزارپرپھول رکھے فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلمبند کیے۔

صدر مملکت عارف علوی، گورنر کامران ٹیسوری اور نگران وزیر اعلیٰ سندھ مقبول باقر نے مزارِ قائد پر حاضری دی اور پھول بھی رکھے۔

بانی پاکستان کے یوم پیدائش کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح آج بھی ہم سب کیلئے مشعل راہ ہیں، قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کے اصولوں پرعمل ہے۔

برصغیر کے مسلمانوں کو پاکستان کی صورت میں ایک آزاد وطن دینے والے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 25 دسمبر 1876 کو کراچی کے وزیر مینشن میں آنکھ کھولی تو کون جانتا تھا کہ یہ بچہ عظیم رہنما بن کر برصغیر کے مسلمانوں کی کشتی پار لگانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کی جبکہ میٹرک کا امتحان جامعہ بمبئی سے پاس کیا بعد میں اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن روانہ ہوگئے۔

1895 میں انہوں نے لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کرلی اور بمبئی واپس آ کر باقاعدہ طور پر وکالت کا آغاز کیا۔

1896 میں محمد علی جناح نے سیاسی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلی لیکن کچھ عرصے بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔

1913 میں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور علیحدہ وطن کی باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بعد قائداعظم نے اپنے شب و روز مسلمانوں کے سیاسی شعور کی بیداری کیلئے وقف کر دیے۔

بالآخر ان کی جدوجہد رنگ لائی اور 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا خواب پورا ہوا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔

آزادی کے بعد قائد اعظم کی طبیعت ناساز رہنے لگی اور کئی بیماریوں سے لڑتے لڑتے بالآخر 11 ستمبر 1948 کو ملت کا پاسبان دار فانی سے کوچ کرگیا۔