دہشتگردوں سے مذاکرات نے ملک کو 10 سال پیچھے دھکیل دیا، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں سے مذاکرات نے پاکستان کو 10 سال پیچھے دھکیل دیا لہٰذا ذمے داروں کا تعین کرنا پڑے گا۔

ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چاہتے ہیں قائد عوام (ذوالفقار علی بھٹو) کو انصاف ملے، ان کے قتل میں ملوث ججوں، وکلا اور سیاستدانوں کو بے نقاب کیا جائے، ہمیشہ کیلیے یہ دروازہ بند ہونا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی نہ سوچ سکے کہ وہ جج کو ڈکٹیشن دے سکتا ہے۔

اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خواتین نے پیپلز پارٹی میں ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کیا ہے، پارٹی کے مشکل وقت میں بھی خواتین ہمیشہ کھڑی رہیں، ضیا الحق کے دور میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑی خواتین نے بھرپور ساتھ دیا، پارٹی کا نظریہ اور منشور ہے خواتین کے ساتھ برابری کا سلوک ہو۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی محنت سے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرے گی، خواتین کو بااختیار بنانے کیلیے جدوجہد کی ہے، پیپلز پارٹی اور خواتین کی جدوجہد کی وجہ سے کافی کامیابی حاصل کی گئیں، الیکشن 2024 میں ہونے جا رہے ہیں، ہمارے منشور میں واضح ہوگا کہ خواتین کی نمائندگی جاری رہے گی، خواتین کا ملک کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خواتین کی ایسے خدمات کرنا چاہتا ہوں جیسے آپ کا بیٹا ہوں، میری جدوجہد میں ساتھ دیں تاکہ ملک کی خواتین کی مدد کر سکوں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام انقلابی پروگرام ہے اس جیسے دیگر پروگرامز بھی شروع کریں گے، ہماری حکومت میں غریب خواتین کی مالی مدد کی جائے گی، سندھ میں خواتین کو بلاسود قرضہ دے کر کاروبار کیلیے مدد فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتیں اشرافیہ اور انڈسٹریز کو بڑے قرضے دلاتی ہے اور پھر معاف کر دیے جاتے ہیں، ملک بھر میں غریب خواتین کو مالکانہ حقوق دینا چاہتے ہیں، کچی آبادیوں میں جا کر پپیغام پہنچائیں کہ ان کو بھی مالکانہ حقوق دلائیں گے، خواتین کو بچے کی پیدائش کے بعد 1000 دن حکومت کی طرف سے مالی مدد فراہم کریں گے، یہ بینظیر بھٹو کا منصوبہ تھا جس پر ہماری مخالفین سیاسی جماعتیں تنقید کرتی تھیں۔