تاجکستان، کرغزستان و پاکستان کا افغانستان سے CASA-1000 توانائی منصوبے میں واپسی کا مطالبہ

تاجکستان کی توانائی اور آبی وسائل کی وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ تاجکستان، کرغزستان و پاکستان کے وزرائے توانائی نے دبئی کلائمیٹ کانفرنس (COP28) کے دوران بجلی کی ترسیل و تجارت کے “کاسا 1000” منصوبے کا جائزہ لینے کے لئے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان سے CASA-1000 منصوبے میں اس کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے دبئی میں ہونے والی سہ فریقی ملاقات میں تاجک، کرغستانی و پاکستانی وزرائے خارجہ دلیر جمعہ، طلیبک ایبرایوف اور محمد علی نے اس بین علاقائی بجلی کی ٹرانسمشن لائن کے تجارتی آپریشن کے جلد آغاز پر متفقہ طور پر زور دیا اور ایک مشترکہ کال تیار کی ہے جس میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اس منصوبے کی ترقی میں مدد کرنے کو کہا گیا ہے۔

کاسا 1000 منصوبے کے پریس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تینوں ممالک کے وزراء افغانستان میں اس منصوبے کی تعمیر کو دوبارہ شروع کرنے میں سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس ملک کی شرکت کے بغیر یہ منصوبہ اپنی اہمیت کھو دے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ کئی ایک سالوں سے تاجکستان، کرغزستان، پاکستان و افغانستان، وسطی ایشیا کے 2 ممالک افغانستان و پاکستان کو بجلی کی منتقلی کے لئے “CASA-1000” منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ہیں جو کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے برسراقتدار آ جانے کے بعد سے معطل ہے۔