افغان خواتین کی تعلیم پرپریشان لوگ غزہ کی خواتین پر بھی توجہ دیں: مولانا فضل الرحمان

برٹش ہائی کمشنر جین میریٹ، پولیٹیکل سیکرٹری سیم فلیچر کی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی جس میں  باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔

برٹش ہائی کمشنر جین میریٹ کی سربراہی میں وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی جس میں افغانستان میں خواتین کی تعلیم سمیت افغان مہاجرین کی واپسی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

جے یو آئی کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر  نے افغانستان میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان سے تعاون کی اپیل کی جس پر مولانا فضل الرحمان نے عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور معاملات باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دیا۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مغرب اور اسلام کے درمیان ثقافتی تقسیم کو تسلیم کیا جائے ۔خواتین کی تعلیم کے حامی ہیں لیکن افغانستان کے اسلامی اور پشتون پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے وہاں کی حکومت خواتین کی تعلیم کے لیے ماحول بنا رہے ہیں ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افغانستان میں امن وامان کے قیام میں بتدریج بہتری آرہی ہے ،امن وامان کے قیام کے ساتھ ساتھ یہ مسائل بھی حل ہوں گے ۔

اعلامیہ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین اور بچوں کی تعلیم پر پریشان ہونے والوں کو غزہ کی خواتین اور بچوں کی طرف توجہ دینی چاہیے جہاں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں جبکہ غزہ میں چار ہزار خواتین ،چھ ہزار بچے اور بیس ہزار عام شہریوں کو بموں کے ذریعے شہید کیا گیا ۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ مغرب پھر بھی اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے ۔مغرب اپنے روئے پر نظر ثانی کرے ۔امن کے نام پر غزہ میں قتل عام بند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کی جائے ۔