فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے سے 9 مئی جیسے پرتشدد واقعات رونما ہوئے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا عمل درآمد کیس کی 15 نومبر کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے کے تناظر میں نہ کسی کو زمہ دار ٹھہرایا گیا نہ ہی پر تشدد احتجاج پر احتساب ہوا، نتیجتاً قوم کو  9 مئی کے واقعات دیکھنے پڑے۔ حکومت نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، انکوائری کمیشن کو 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کرنے کا کہا گیا ہے۔

کیس کی مزید سماعت آئندہ برس 22 جنوری کو ہوگی۔ سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا کہ امید ہے انکوائری کمیشن فیض آباد دھرنا سے متعلق وقت پر تحقیقات مکمل کرے گا، الیکشن کمیشن ٹی ایل پی کی فارن فنڈنگ سے متعلق آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائے۔

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019ء کو دیا، عدالتی فیصلے میں ماضی کے پر تشدد واقعات کا حوالہ دیکر مستقبل کیلئے وارننگ دی گئی۔ تقریباً 5 سال گزرنے کے باوجود حکومتوں نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا۔

فیض آباد دھرنے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئی جنھیں سماعت کیلئے مقرر نہ کیا، نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا۔ تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ سابق چئیرمین پیمرا ابصار عالم نے اپنی اپیل بحالی کی درخواست دی جو مسترد کی جاتی ہے۔

دوران سماعت ابصار عالم نے کہا کہ وہ چئیرمین کے عہدے پر بحال نہیں ہونا چاھتے، یہ نظرثانی کی درخواستیں 2019ء میں دائر کی گئیں، لیکن سالوں گزرنے کے بعد بھی سماعت کے لئے مقرر نہ ہوپائیں۔

اس بارے میں عدالت کے ایڈیشنل رجسٹرار فکسچر اور جوڈیشل نے مشترکہ پورٹ عدالت میں پیش کی۔ یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ عدالت کے ہرحکم پر عمل درآمد تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز پر لازم ہے۔

تاہم ان احکامات پر عمل اس وقت رک جاتا ہے جب نظر ثانی کی درخواستیں دائر ہوجائیں۔ لیکن اب تمام نظر ثانی اپیلیں نمٹائی جاچکی ہیں۔

نظرثانی درخواستوں کو وقت پر سماعت کیلئے مقرر نہ کرنے سے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکا، ماضی کے پرتشدد واقعات میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا نہ ہی کوئی کاروائی ہو سکی۔ فیصلے پر عمل نہ ہونے سے ذاتی مقاصد کیلئے پرتشدد واقعات کرنا معمول بن گیا۔