یو ایس ایڈ : خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ اضلاع میں زرعی بحالی اور معاشی ترقی میں سرگرم

ڈیرہ اسماعیل خان کے تباہ کن سیلاب نے خیبر پختونخوا میں قابل کاشت زمین کا 17 فیصد حصہ بری طرح متاثر کیا۔جس میں ڈیرہ اسماعیل خان کے سات میں سے تین بیج فارم، جو صوبے کی سالانہ بیج پیداوار کا 10فیصد پیدا کرتے تھے،کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے بیج کی دستیابی اور کسانوں کے ذریعہ معاش کے لیے سنگین خطرات لاحق ہوئے۔

اس دوران یو ایس ایڈ کے پروگرام برائے اقتصادی ترقی و بحالی نے زرعی بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ کسانوں کو ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا۔ جس کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری بیج فارموں میں سے 488 ایکڑ اراضی کی بحالی اور سیلاب سے متاثره 9 واٹر کورسز کی مرمت کی، جن کی لمبائی 3.3 کلومیٹر ہے۔

ان اقدامات نے آبپاشی اور زمینی پیداور کو بہتر بنایا۔ پروگرام کے تحت ابتک 33 ایکڑ پر کاشت کی جا چکی ہے اور باقی ماندہ 345 ایکڑ پر گندم کی بیج کی کاشت جاری ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف زراعت بحال ہورہی ہے، بلکہ کسانوں کا ذریعہ معاش بھی بہتر ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ مختلف دیہات میں سیلاب سے متاثره 18 پانی اور زمین کے تحفظ کے ڈھانچوں کی بحالی کی، تاکہ زرعی زمین کو کٹاؤ سے محفوظ کیا جا سکے، اور پانی کی قلت والے علاقوں میں بارش کا پانی ذخیرہ کر کے آبپاشی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

یو ایس ایڈ کا اقتصادی ترقی و بحالی کا پروگرام سیلاب سے متاثرہ گومل زام کے کمانڈ میں 158 نالوں کی بحالی میں مصروف ہے،جو کہ جون 2023 تک متاثرہ علاقوں میں مناسب آبپاشی کے انتظام کو یقینی بنائے گا۔

ان منصوبوں کو ڈیرہ اسماعیل خان کی زرعی توسیع اور ڈسٹرکٹ سو ئیل اینڈ واٹر کنزرویشن کے حوالے کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔

ظفر الاسلام، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان،نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ (یو ایس ایڈ کے اقتصادی ترقی و بحالی کے منصوبوں نے سیلاب زدہ زراعت کے شعبے کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ یو ایس ایڈ اور پاکستان کے عوام کے درمیان مضبوط شراکت کی ایک مثال ہے، جو ہمارے شہریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لاتی رہی ہے۔)

ڈاکٹر شکیل کاکاخیل، ڈپٹی چیف آف پارٹی اقتصادی ترقی و بحالی نے اس منصوبے میں شریک تمام افراد کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا که یہ منصوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کے عزم کا مظہر ہے۔جس سے کاشتکاروں کے فلاح و بہبود اور خیبر پختونخوا کے معاشی ترقی و بحالی پر مثبت تنائیج مرتب ہونگے۔)

نجیب اللہ شاہ، مقامی کسان جو اس منصوبے سے مستفید ہو رہے ہیں نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ (اس امدد نے ہمیں امید دلائی ہے، اور اپنی زندگیاں دوبارہ بحال کرنے کا موقع ملاہے، اب ہمارے کھیت ایک بار پهر سرسبز و شاداب ہورہے ہیں، اور ہم اپنے مستقبل سے پر امید ہیں۔)

یو ایس ایڈ کے اقتصادی ترقی و بحالی منصوبے نے خیبرپختونخوا میں 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور اور ٹانک کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں زراعت کو کامیابی سے بحال کیا ہے۔

اس اقدام نے 488 ایکڑ زمین کی بحالی، سیلاب سے متاثرہ آبپاشی کے انتظام کی مرمت اور 18 پانی کے تحفظ کے ڈھانچوں کی تعمیر نو کی ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف زراعت کو بحال کیا ہے بلکہ مقامی کسانوں کی آمدنی اور معیشت کو بھی بہتر بنایا ہے۔