دہشت گرد وہ اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو امریکی افواج پیچھے چھوڑ کر گئیں، شہزاد وسیم

قائد خزب اختلاف شہزاد وسیم نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، اسلحہ وہ استعمال ہو رہا جو امریکی افواج پیچھے چھوڑ کر گئیں۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ جس میں مرحوم نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان اور سکیورٹی فورسز کے شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ سینیٹر مشتاق احمد نے دعا کروائی۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد خزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہیمی اور بدگمانی کی تاریخ ہے، اندرونی معاملات کا ایک دوسرے پر اثر ہوتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے مسئلے کا سامنا کیا، گزشتہ کچھ دنوں میں دہشت گردی کی لہر میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغان غیر قانونی مقیم افراد کو واپس بھیجنے کا فیصلہ ہوا، کسی خود مختار ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقنیی بنائے، دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، اسلحہ وہ استعمال ہو رہا جو امریکی افواج پیچھے چھوڑ کر گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ مسئلہ افغانستان کے ساتھ اٹھایا کہ آ پکی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہو، کوئی بغیر دستاویزات کے آپ کے ملک میں نہیں رہ سکتا۔

شہزاد وسیم نے کہا کہ ہمیں بڑے مفادات کو بھی دیکھنا ہے، خطے کی صورت حال میں بھی اپنا کردار ادا کریں، افغانستان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کو بھی بڑھانا ہے، افغانوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے، ہمیں گڈ ویل کے لئے کام کرنا ہو گا۔