اگست 2019ء کے بعد سے کشمیریوں کو بدترین بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے

سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی پرتشدد فوجی کارروائیاں اور ریاستی دہشت گردی تیز کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سرینگر میں اپنے انٹرویوز اور بیانات میں کہا کہ مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پر محاصروں اور تلاشی کارروائیوں اور جبرو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 05 اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے کشمیریوں کے خلاف مودی کی ہندوتوا حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیری آئے روز بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے دریغ قتل اور دیگر مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور ان کے گھروں پر روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے جاتے ہیں۔ بھارتی مظالم نے کشمیر کو اس کے باشندوں کے لیے ایک جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر کے اسرائیلی ماڈل پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی طرف سے مرتب کی گئی متعدد رپورٹوں میں مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

دانشوروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کی جدوجہد کو کبھی بھی ظالمانہ ہتھکنڈوں سے دبایا نہیں جا سکتا اور بدترین بھارتی جبر سے بے خوف کشمیری مکمل کامیابی تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کا فوجی نقطہ نظر نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ عالمی برادری کو کشمیریوں کی فریاد سن کر بہرا نہیں بننا چاہیے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہیے۔