شیخ فاطمہ بنت مبارک ہسپتال شولام بند ہونے کا خدشہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں واقع شیخ فاطمہ بنت مبارک ہسپتال شولام کا کنٹریکٹ 31 دسمبر 2019 کو ختم ہو جائے گا تاہم حکومت کی جانب سے کنٹریکٹ کی تجدید نہ کرنے کی صورت میں اگلے ماہ کے اختتام پر ہسپتال کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی تک کنٹریکٹ کی تجدید نہیں کی ہے اور اگر معاہدہ ختم ہوگیا تو اس کی وجہ سے ڈائیلاسز کے 85 مریض متاثر ہو جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ گائنی، بچوں کی ویکسینیشن اور ایمرجنسی سروسز بھی خود بخود معطل ہو جائیں گی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ کی عدم توسیع کے ساتھ ساتھ فنڈز بھی بند ہیں جس سے ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف بھی شدید متاثر ہیں اور اُن میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب علاقہ مشران کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کنٹریکٹ میں جلد از جلد توسیع کرے تاکہ مریض اور عملہ متاثر نہ ہو، ہسپتال انتظامیہ شولام ہسپتال علاقے کا واحد ماڈل ہسپتال ہے،حکومت فوری مسئلہ حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہسپتال بند ہوگیا تو وہ اپنے مریضوں کو ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور لے جانے پر مجبور ہوں گے۔