ممند خیل کا بنوں میں شامل ہونے کا اعلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

اقوام ممند خیل نے تحصیل بکا خیل کے ساتھ الحاق سے صاف انکار کرتے ہوئے تحصیل بنوں کے ساتھ منسلک ہونے کا اعلان کر دیا جبکہ اس ضمن میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 89  کے سوشل بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ممند یوتھ کور کمیٹی کے زیر اہتمام آزاد منڈی کے مقام پر اقوام ممند خیل کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں قبائلی مشران اور یوتھ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے اقوام ممند خیل کے سربراہ ملک شیر غلی خان،  سلویشتی امیر امیر فیروز خان، مقبول خان، اصغر خان وزیر، سابق ناظم محمد نواز، اول نور و دیگر نے کہا کہ ملک شاہ محمد خان کے ساتھ  ہمارے مشران نے آزاد منڈی کے مقام پر تحصیل بکاخیل قائم کرنے کیلئے  دستخط کئے تھے ممند خیل نے تحصیل کیلئے اراضی بھی پیش کی ہے لیکن شاہ محمد خان اب تحصیل کو بکاخیل کے علاقے میں بنا رہے ہیں جو اقوام ممند خیل کو ہر گز قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحصیل کے ساتھ کالج ہسپتال اور کروڑوں روپے فنڈ ہے صرف بلڈنگ ہی نہیں، ہر قوم کے مختلف مسائل ہوتے ہیں لیکن  یہ تحصیل ہماری آئندہ نسلوں کا مسئلہ ہے  ہم تحصیل بنوں کے ساتھ منسلک ہونا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم پی اے  ہمارے ساتھ تمام منصوبوں میں نہ صرف نا انصافی کررہا ہے بلکہ نظر انداز کرکے پسماندہ رکھنے پر تلا ہوا ہے، یہاں تک کہ ہمارے جرگہ کو بھی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اقوام ممند خیل نے ان کو اسمبلی تک پہنچایا ہم نے چاہا  تو انہیں پولنگ میں بھی نہیں آنے دیں گے۔

جرگہ نے ایم پی اے کو چیلنج دیا کہ بکاخیل تحصیل کے قیام پر ریفرنڈم کی جائے اگر بکاخیل میں تحصیل کے قیام پر فیصلہ آیا تو ہم تیار ہیں اور اگر ہار گئے تو اپنے وعدے کو پورا کریں اور ممند خیل کے مطالبات پر عمل کریں۔ جرگہ نے ضلعی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عرصہ سے  ڈپٹی کمشنر کے پاس  ہماری علیحدگی کی درخواست پڑی ہے جس پر وہ عملدر آمد نہیں کر رہے آج اگر ہمارے ساتھ انتظامیہ  اور ایم پی اے کوئی تعاون نہیں کر رہا لیکن عوام ہمارے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر  محمد خطاب خان شیرانی نے جرگہ کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات حکام بالا تک پہنچائیں گے جس پر جرگہ نے اگلے اتوار تک کی ڈیڈلائن دے دی۔