خیبرپختونخوا میں 18 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا چائلڈ رائٹس مومنٹ نے صوبائی حکومت پر زور دیا ہے کہ صوبے میں بچوں سے متعلق قوانین پر من وعن عملداری یقینی بنائے۔ چائلڈ رائٹس مومنٹ جوکہ 50 سے زیادہ تنظیموں کا صوبائی سطح کا ایک نیٹ ورک ہے جوکہ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرتا ہے کا ایک مشاورتی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔

اس موقع پر نیٹ ورک کی کوارڈینیٹر خورشید بانو نے کہا کہ صوبے میں سرکاری اعداد  وشمار کے مطابق 18 لاکھ سکول جانے کےعمر کے بچے سکول نہیں جارہے ہیں یہ بچے بلکہ یا تو گلی کوچوں پر ہیں اوریا خطرناک ترین اور بدترین مشقت میں ہیں۔

انھوں نے کہا ان اعداد و شمار میں نئے ضم شدہ اضلاع شامل نہیں ہیں۔ خورشید بانو نے کہاکہ تعلیم 5 سے 16 سالہ تک ہر بچے کا بنیادی اور قانونی حق ہے اور آئین کے شق 25 اے کے مطابق لازمی تعلیم کا قانون بھی صوبہ میں موجود ہے جس پر عمل در آمد کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ بچے تعلیم حاصل کرسکے نہ کہ وہ استحصال اور زیادتی کے شکارہو۔

خویندو کور کی لیلا شھنواز نے کہا 14 سے 16 سال تک کے بچے بلوچستان کے کوئلہ کانوں میں کام کرتے ہیں جہاں نہ صرف ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے بلکہ زندگی اور موت کا کھیل کھیلتے ہوئے کم معاوضہ پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہئے کہ ایسے بچوں کی نشاندہی کرے جو خطرناک ترین مشقت میں قانون کے خلاف کام کررہے ہیں صوبائ چائلڈ لیبر کے قانون 2015 پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور بچوں سے گھریلو مشقت کے خاتمے کے لئے صوبائی حکومت ایک نوٹیفیکیشن کے زریعے پابندی لگائے۔

عمران ٹکر گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان آرگنائزیشن کے صوبائی کوارڈینیٹر نے کہا کہ دن بدن بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات نہ صرف یہ کہ رپورٹ ہورہے ہیں بلکہ اس میں 8 سے 10 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا خطرات سے دوچار بچوں کے تحفظ سے متعلق صوبہ میں ایک جامع قانون "چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر ایکٹ 2010” موجود ہے جسکے تحت 2011 میں کمیشن بھی بنایا گیا ہے لیکن قانون کے مطابق کمیشن ممبران کے باقاعدہ میٹنگز نہیں ہورہے ہیں۔ کمیشن کو فعال ادارا بنانے کے لئے صوبائ حکومت کی زمہ داری ہے کہ فنڈز کی فراھمی یقینی بناکر پورے صوبے میں ھر ضلع میں بین الاقوامی معیار کے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس بنائیں کیونکہ اس وقت صوبہ کے ایک ضلع میں ایک بھی یونٹ نہیں ہے۔ عمران ٹکر نے کہا کہ اس قانون کے تحت پشاور ھائی کورٹ نے 3 چائلڈ کورٹس بھی بنائیں ہیں لیکن صوبائ حکومت نے تمام اضلاع میں ان کورٹس کے قیام کا ھائ کورٹ کے تجویز کو مسترد کردیا ہے حالانکہ ان عدالتوں کا قیام قانونی تقاضا، وقت کی ضرورت اور صوبائ حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا صوبائی حکومت پشاور ھائی کورٹ کیساتھ ملکر تمام اضلاع میں ان عدالتوں کا قیام عمل میں لائے۔

عمران ٹکر نے مزید کہا قیدی بچوں کے موجودہ قانون "جوئینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018” کے مطابق بچوں کو جیلوں میں نہیں بلکہ اصلاحی اداروں میں رکھنا چاہیئے لیکن قانون کے برعکس 400 سے 500 تک قیدی بچے صوبے کے مختلف جیلوں میں سلاخوں کے پیچھے پڑے ہیں انھوں نے کہا کہ ان بچوں کے اصلاح اور قید سے بچنے کے لئے جو "جوینائل جسٹس کمیٹیوں” کا نوٹیفیکیشن صوبائ حکومت نے قانون پاس ہونے کے تین مہینے کے اندر اندر کرنا ہے وہ بھی ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود التوا کا شکار ہے جوکہ ایک قانونی تقاضا اور وقت کی ضرورت ہے۔