خیبر پختونخوا میں 39، قبائلی اضلاع میں 48 فیصد بچے غذا کی کمی کا شکار

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبر پختونخوا میں غذائی کمی کا شکار بچوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا، صوبے میں 39 جبکہ قبائلی اضلاع میں 48 فیصد بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق غذائی کمی کا شکار بچوں کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، قومی سروے 2018ء کے مطابق خیبر پختونخوا میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں دس میں سے چار بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں۔

شہری کہتے ہیں غذائی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، شہریوں نے غربت اور معاشی مسائل کو بھی بنیادی وجہ قرار دیا۔

غذائی کمی کے باعث صوبے میں 17 فیصد بچے اپنے قد کی مناسبت سے کمزور جبکہ اکاون فیصد وٹامن اے کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب ورلڈ فوڈ پروگرام کی خصوصی مشیر اور اردن کی شہزادی سارا زید نے کہا ہے کہ پاکستان میں غذائیت کی بہت کمی ہے، ملک بھر میں دو تہائی گھرانے مناسب غذا کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے، پاکستان میں غذائیت کی کمی دور کرنے کیلئے بھرپور تعاون کروں گی۔

اردن کی شہزادی سارا زید نے ورلڈ فوڈ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماں کیلئے بہترین غذا بہت ضروری ہے کیونکہ اس نے بچے کی پرورش کرنا ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح بچے کیلئے پہلے ہزار دن اچھی غذا کا ہونا بہت ضروری ہے، صرف تین فیصد بچے معیاری خوراک کی صحیح مقدار حاصل کرتے ہیں۔

سارا زید کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔