مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت عالمی برادری کے لیے چیلنج ہے

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی بربریت عالمی برادری کے لئے ایک چیلنج ہے جہاں بھارتی فوجی،پ یراملٹری فورسز اور پولیس کے اہلکار جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، دنیا اور امن پسند اقوام کو خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہیے۔

آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نہتے کشمیریوں اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے حواریوں کو جوابدہ بنایا جائے اور بھارتی فوجیوں اور ان کی ایجنسیوں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔

دنیا بھر میں 21ستمبر کو امن کا عالمی دن منایا گیا لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر کے امن پسند لوگوں کے لیے امن ایک خواب ہے جو گزشتہ 76 سال سے بھارت کی بدترین ریاستی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے ظالمانہ قبضے اور قتل عام کا شکار ہیں اور بھارتی فوجی روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کے خلاف تشدد سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عام کشمیری سخت فوجی محاصرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بھارتی فورسز کی کارروائیاں مقبوضہ علاقے میں ہولوکاسٹ سے کم نہیں ہیں۔

رپورٹ میں دفعہ370 اور 35A کی منسوخی اور بی جے پی، آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کرنے پر عالمی برادری کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت، نوجوانوں، خواتین ،صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں سمیت چار ہزار سے زائد کشمیریوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی نظربند رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں عالمی برادری کی توجہ نظربند اور مظلوم کشمیریوں کو درپیش مشکلات کی طرف مبذول کرائی گئی جو عالمی برادری کی مدد کے منتظر ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ میں بھارت بدستور سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت اور اس کی کٹھ پتلی انتظامیہ کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل یعنی مقبوضہ کشمیر میں ان کے جرائم پر جوابدہ بنایا جائے۔