بجلی بلوں پر مالیاتی اداروں سے وعدوں پر عمل ہوگا، انوار الحق کاکڑ

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ حکومت بجلی بلوں کے معاملے پر مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے گی، احتجاج کرنے والوں کے جذبات مجروح کیے بغیر مسئلے کا قلیل مدتی حل تلاش کریں گے۔

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، 2 یا اس سے زیادہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی فوری نجکاری کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاک فوج کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، بالخصوص معاشی بحالی کیلئے حکومت اور فوج مل کر کام کر رہے ہیں۔ نگران وزیراعظم نے کہا کہ عام انتخابات جلد از جلد کرانے کیلئے ہر ممکن معاونت کریں گے، جلد انتخابات کیلئے سہولت فراہم کرنا عبوری حکومت کا مینڈیٹ ہے، آئین کے مطابق مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔

انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت نے سرمایہ کاری کے حصول کی پالیسی پر توجہ دی ہے، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل معاشی بحالی کی حکمت عملی ہے، زراعت، معدنیات، دفاعی پیداوار اور آئی ٹی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، مشرق وسطیٰ سے 25، 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری 2 سے 5 سال میں پاکستان آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکا، اتحادیوں کے باقی رہ جانے والے ہتھیار علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں، اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، غیر ملکی فوجیں اپنے مفادات کے حصول کے بعد افغانستان سے چلی گئیں، ہم اپنے ملک، بچوں، مساجد اور عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے تیار ہیں۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات ثقافت، مذہب اور سماجی ربط پر مبنی ہیں، حکومت غیر قانونی مہاجرین کے مسئلہ کے حل کیلئے پالیسی بنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی صارفین کو ریلیف کیلئے حقائق پر مبنی غیر روایتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حکومت بجلی بلوں کے معاملے پر مالیاتی اداروں سے وعدوں پر عملدرآمد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو مطمئن کرنے کیلئے حقائق پر مبنی فیصلہ کرے گی، گردشی قرضہ، بجلی چوری، لائن لاسز بڑے چیلنجز ہیں، حکومت احتجاج کرنے والوں کے جذبات مجروح کیے بغیر مسئلے کا قلیل مدتی حل تلاش کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دو یا اس سے زیادہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی فوری نجکاری کی جائے گی، بجلی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، حکومت وسط مدتی اصلاحات کی بنیاد فراہم کرے گی۔

انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ سماجی عدم توازن پیدا کرنے کی کوشش تھی، موجودہ خطرات سے قانون کے مطابق نمٹنا ضروری ہے، ایسے رویئے سے قانون کے مطابق نمٹنے کی حمایت کرتے ہیں۔