چینی مافیا کے سامنے نگران حکومت مکمل بے بس

چینی مافیا کے سامنے نگراں حکومت مکمل بے بس نظر آرہی ہے، مافیا ہر روز چینی کو مہنگی کرتا جا رہا ہے اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ آج لاہور، کوئٹہ، فیصل آباد اور پشاور میں چینی کی ڈبل سنچری ہوگئی۔

چینی کی سرکاری قیمت 99 روپے ہے، جس کے خلاف پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے لیا ہوا ہے۔ اس اسٹے کی وجہ سے ایف بی آر نہ تو شوگر ملز پر چھاپے مار سکتی ہے، نہ چینی کے ذخائر چیک کرسکتی ہے۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ محکمہ خوراک پنجاب نے 6 مہینے پہلے دیئے گئے اسٹے کو ویکیٹ کروانے کے لیے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔

اس سب کا خمیازہ عوام مہنگی چینی کی صورت میں بھگت رہے ہیں، چینی مافیا نے پی ڈی ایم حکومت کو سال کے شروع میں یقین دلایا کہ چینی ضرورت سے زیادہ ہے۔ حکومت مان گئی اور چینی مافیا نے سستی چینی ایکسپورٹ کرکے ڈالرز میں بھاری منافع کمایا۔

پی ڈی ایم حکومت سے اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت کیا ملی، مافیا نے زیادہ چینی ایکسپورٹ کر دی۔ پھر لاکھوں میٹرک ٹن چینی افغانستان اسمگل کر دی گئی۔

چینی کم پڑ گئی، طلب زیادہ ہوگئی اور چینی کی قیمت کو پر لگ گئے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کچھ دنوں پیشتر کہہ چکی ہے کہ ملک میں چینی کی کمی کو ایکسپورٹ سے جوڑنا درست نہیں، مہنگی چینی کا تعلق پیداواری لاگت سے ہے۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پچھلے ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ چینی کا مہنگا ہونا بےایمان کاروباری طریقوں اور ناقص گورننس کا عکاس ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو، چینی مافیا نے حکومت کو ماموں بنا دیا، خدشہ اس بات کا ہے کہ اب حکومت 220 روپے کلو کے ریٹ سے چینی امپورٹ کرے گی اور پیسہ عوام بھریں گے۔