سانحہ جڑانوالا ناجائز تعلقات اور ذاتی دشمنی کا شاخسانہ نکلا

جڑانوالا سانحے کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، پولیس واقعے سے جڑے اصل حقائق سامنے لے آئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ سانحہ 2 مسیحی افراد کی آپسی رنجش کا نتیجہ ہے، عمیر عرف راجہ مسیح کے پرویز مسیح کی بیوی سے ناجائز تعلقات تھے، پرویز کوڈو نامی شخص نے راجہ کو قتل کروانے کی کوشش بھی کی۔

پولیس ذرائع کے مطابق پرویز نے راجا کو قتل کروانے کیلئے اللہ دتہ کو رقم اور موٹر سائیکل دی۔ اللہ دتہ کوشش کے باوجود راجہ کو قتل کرنے میں ناکام رہا، قتل میں ناکامی کے بعد پرویز نے راجہ کو پھنسانے کیلئے یہ گھناؤنی سازش کی، جس میں پرویز کوڈو کے ساتھ داؤد اور بوبی بھی شامل تھے۔

پرویز نے راجا کے نام سے توہین آمیز خط لکھا اور بے حرمتی کی، لوگ توہین آمیز خط اور مقدس اوراق دیکھ کر مشتعل ہوگئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اشتعال پر جڑانوالا میں مسیحی گھر اور چرچ نذرِ آتش ہوئے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے پرویز کوڈو اور اللہ دتہ کو حراست میں لے رکھا ہے۔

مقدمہ میں نامزد راجہ پہلے ہی پولیس حراست میں ہے۔ یاد رہے کہ جڑانوالہ میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ہجوم نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے مسیحی آبادیوں پر حملے کیے تھے، جس کے دوران 19 چرچ اور 86 گھر جلائے گئے تھے۔ سیاسی رہنماؤں نے ہجوم کے اس فعل کی مذمت کی تھی۔