افغان طالبان نے پاکستان کو مطلوب کچھ افراد کو گرفتار کیا ہے، نگراں وزیرِ خارجہ کا دعویٰ

پاکستان کے نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جو پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔

بدھ کو صحافیوں کے ساتھ ایک غیر رسمی بریفنگ میں نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے مزید کہا کہ طالبان حکومت نے پاکستان میں حملوں میں ملوث کچھ دہشت گردوں کو گرفتار کر کے اسلام آباد کو آگاہ کیا ہے۔

پاکستان کی حکومت ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا الزام افغانستان میں مبینہ طور پر پناہ لینے والے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں پر عائد کرتی رہی ہے۔ تاہم افغان طالبان کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) کا معاملہ حکومتِ پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان بداعتمادی کی وجہ بنتا رہا ہے۔

پاکستان کا یہ الزام رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ وقتاً فوقتاً سرحد عبور کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

پاکستانی حکام یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ طالبان حکومت پاکستان کو مطلوب ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے، بصورتِ دیگر پاکستان خود افغانستان کے اندر کارروائی کر سکتا ہے۔

پاکستان کی اس دھمکی پر طالبان حکومت بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کر چکی ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

جلیل عباس جیلانی کے اس دعوے پر طالبان حکومت کا تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ماضی میں افغان طالبان ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کی میزبانی کرتے رہے ہیں۔

ٹی ٹی پی کی افغانستان میں مبینہ محفوظ پناہ گاہوں پر پاکستان کی تشویش کے پس منظر میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد اس معاملے پر طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے۔

اس بریفنگ میں شریک خارجہ امور کے صحافی متین حیدر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ کابل نے اسلام آباد کو باضابطہ آگاہ کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

متین حیدر کہتے ہیں کہ وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور تجارتی تعلقات بہتر چل رہے ہیں۔ تاہم ہمسایہ ملک کے ساتھ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی نقل و حرکت اور ان کی کارروائیوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔

افغان امور کے تجزیہ نگار طاہر خان کہتے ہیں کہ اگر افغان طالبان اس بات کی تصدیق کریں کہ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افراد کو گرفتار کیا ہے تو یہ بہت بڑی پیش رفت سمجھی جائے گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ جولائی میں بلوچستان کے ژوب کینٹ پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان کے مؤقف میں سختی آئی ہے۔

بارہ جولائی کو ژوب چھاؤنی پر دہشت گردوں کے حملے میں نو سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی فوج نے اس کارروائی کے دوران پانچ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جب کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ ژوب کینٹ پر حملہ کرنے والے تین دہشت گردوں کا تعلق افغان صوبے قندھار سے تھا۔

اُن کے بقول پاکستان کے آرمی چیف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ردِعمل پر افغان طالبان رہنماؤں نے بھی سخت جوابی بیانات دیے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری آئی۔

وہ کہتے ہیں کہ افغان طالبان کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی اقدام کرنا بہت مشکل فیصلہ ہے۔ لیکن اسلام آباد کے تحفظات کم کرنے کے لیے اُنہوں نے کچھ اقدامات کیے ہیں۔