صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر غازی سیال سپرد خاک کر دیے گئے

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

گزشتہ روز وفات پانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر غازی سیال کو ہزاروں اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔

غازی سیال کی نماز جنازہ اخواندان منڈان بنوں میں ادا کی گئی’ نماز جنازہ میں شاعروں، ادیبوں، وکلاء، صحافیوں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں، مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور سابق بلدیاتی نمائندوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

غازی سیال پشتو زبان کے ممتاز شاعر تھے  وہ 18 کے قریب کتابوں کے مصنف بھی تھے، ریڈیو، ٹیلی وژن کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں، ‘بنزے’ نامی ناول ان کا بہت مشہور ہے۔ شاعر، ادیب، نغمہ نگار اور مصنف غازی سیال 1933 میں پیدا ہوئے اور بدھ کے روز علالت کے باعث 85 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی مجلس عاملہ کے سفیر رکن بھی تھے اور پشتو نغمہ نگاری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے 50 سے زائد کلاسیکل پشتو فلموں کیلئے گیت بھی لکھے۔

تاہم صد افسوس کہ حسب روایت ہم اپنے ایک اور عظم شخصیت کو وہ مرتبہ اور احترام دینے میں ناکام رہے، مرحوم غازی سیال طویل عرصہ علیل رہے تاہم حکومتی بے حسی کا شکار بھی، ایل آر ایچ میں کافی دن زیر علاج رہے لیکن ڈائریکٹر کلچر کے علاوہ کسی بھی اعلی حکومتی اہلکار یا عہدیدار مالی امداد تو درکنار ان کی بیمار پرسی تک نہ کر سکے۔

دوسری جانب اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر انعا م الحق جاوید نے پشتو کے مایہ ناز ادیب اور صدارتی ایوارڈ یافتہ محقق، دانشور اور ناول نگار غازی سیال کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مرحوم پشتو شعراء میں ایک اہم مقام رکھتے تھے۔

انہو ں نے کہا کہ وہ درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے جس پر 2005 میں مرحوم کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا، غازی سیال کو اس کے علاوہ کئی بڑے ایوارڈ مل چکے ہیں، پشتو ادب میں ان کو بابائے سندرہ کا لقب دیا گیا تھا، مرحوم کے ادبی خدمات کو نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ افغانستان میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اْن کی مشہور کتابوں میں ڑوند او خکلا، دہ سندرے روح، حرفونہ خبرے کوی، بنزئے، زمہ سندرے ستا دہ پارہ، سیورے، دہ حرا نور اور دیگر شامل ہیں جو پشتو ادب کے لیے گراں قدر سرمایہ ہیں۔

چیئرمین اکادمی ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے مرحوم کے لیے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دْعا کی۔