90 روز میں انتخاب کرانے کا معاملہ، پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں تقسیم

نوے روز کے اندر انتخاب کرانے کے معاملے پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں تقسیم ہوگئیں، پی پی پی مبینہ طور پر وفاق میں وزارتوں میں حصہ نہ ملنے اور سندھ میں مرضی کا چیف منسٹر نہ بنائے جانے کے سبب مقتدر قوتوں سے قدرے ناراض ہے، اسی لیے پی پی پی نے 90 روز کے اندر الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔

پی پی پی کے رہنماء رضا ربانی، فضل کریم کنڈی، سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شدومد سے الیکشن کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ پی ڈی ایم سے باہر کی جماعتیں پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، اے این پی بھی الیکشن میں ایک دن کی تاخیر نہیں چاہتیں، ان جماعتوں نے الیکشن کی تاریخ آگے بڑھنے پر احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔

ان جماعتوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن عملہ کی تعداد بڑھا کر مردم شماری اور حلقہ بندیاں دو ماہ میں کرکے تین ماہ کے اندر انتخاب کرا دیں، پی ڈی ایم میں شامل دیگر چھوٹی جماعتیں بھی وقت پر انتخاب کرانے کے حق میں ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف) اور ایم کیو ایم الیکشن آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کو کراچی، حیدرآباد میں پی پی پی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ایم کیو ایم بعض یقین دہانیاں چاہتی ہے۔

دسرے جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کے مطابق وفاقی دار الحکومت میں لائرز کنونشن میں ملک بھر کے وکلا شریک ہوں گے۔

اعلامیہ میں سپریم کورٹ بار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام کو ووٹ کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، عام انتخابات میں تاخیر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔

سپریم کورٹ بار کے اعلامیہ کے مطابق جمہوریت کی بقا اور قانون پر عملداری کیلئے 90 روز میں انتخابات ناگزیر ہیں