ریگی گاؤں کا تقریبا 35 سال سے اورکزئی قوم کے ساتھ اراضی پر تنازع

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

ریگی قومی اتحاد نے ریگی تنازعہ کے حل کے لیے اب تک تقریبا آٹھ نشستیں اسپیکر ہاؤس میں ڈپٹی اسپیکر محمود جان کے ساتھ کی اور تقریبا 12 نشستیں پولیس لائن میں کر چکی ہے جس کا مقصد ریگی تنازعے کا پرامن حل اور پھر عوام کو ان کا صحیح حق دلانہ ہے۔ ریگی گاؤں کا تقریبا 35 سال سے اورکزئی قوم کے ساتھ اراضی پر تنازع چل رہا ہے۔

ٹرائبل پریس سے گفتگو کرتے ہوئے ریگی قومی اتحاد کے ممبر ڈاکٹر حماد نے کہا کہ 2006 میں صوبائی اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ اس اراضی کے دو حصے اورکزئی قوم کو جبکہ ایک حصہ اہل علاقہ ریگی کو ملے گا جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریگی علاقے کے چند مفاد پرست لوگوں نے مل کر اہل علاقہ سے مشورہ کیے بغیر 2014میں یہ اراضی بھیج دی جس پر اہل علاقہ مشران کافی غم اور غصے میں تھے اور جلسے جلوس بھی کئے اور اپنی اراضی میں بیٹھ کر دھرنا دیا جس کی بنا پر ان غریب لوگوں پر سات اے ٹی اے جیسے خطرناک دفعات لگائے گئے۔

ریگی قومی اتحاد 2016 میں ریگی عوام نے عوام کے فلاح و بہبود کے کاموں کے لئے بنائی جس کا بڑا مقصد ریگی تنازعے کا  پرامن حل اور عوام کو ان کا حق دلانا ہےاس تنظیم کے کل 103 ممبرز ہے جن میں 16 ممبر شعوریٰ کیلئے مختص ہے۔

گفتگو کے دوران ڈاکٹر حماد نے بتایا کہ ایس پی شفیع اللہ گنڈاپور کو اللہ اور ترقی دیں جس نے ان مفاد پرست لوگوں کو ہمارے ساتھ بٹھایا۔ ریگی قومی اتحاد کے ممبر کے مطابق ڈپٹی سپیکر محمود جان کی سربراہی میں ایک جرگہ بنایا گیا جس میں خالد وقار چمکنی, حافظ حشمت, مولانا امان اللہ حقانی, محمد اقبال ایڈوکیٹ, خالد مسعود شامل ہےاس جرگے نے دوبارہ اس اراضی کی پیمائش کی جس میں 200 جریب زیادہ نکلی۔

ڈاکٹر حماد نے ٹرائبل پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان مفاد پرست لوگوں نے اہل علاقہ کو بتایا تھا کہ مکمل اراضی کے ڈیڑھ ارب روپے ملے ہیں جبکہ اصل میں ان لوگوں کو ساڑھے چار ارب روپے سے بهی زیادہ ملے ریگی قومی اتحاد کے انتک کوششوں کی وجہ سے پتہ چلا ہے کہ سرکاری ریٹ کے مطابق فی جریب اراضی 55لاکھ پر فروخت ہوئی ہےجب کہ ان لوگوں نے فائل بھی چھپائے تھے اور اپنے لوگوں کو  30 لاکھ کے حساب سے بتا رہے تھے جس میں یہ لوگ کہہ رہے تھے کہ 20 اورکزئی قوم کو ملے اور 10 لاکھ ہمیں ملے ہیں تو  ان غداروں نے فی جریب میں 25 لاکھ کا غبن کیا ہے جو کروڑوں میں بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اورکزئی قوم کو تقریبا ساڑھے گیارہ سو فائل کے حساب سے پیسے ملے اور ہم سے بالکل فائل چھپائے تھے ان غداروں نے اسی طرح پیسے بھی غیرمنصفانہ طور پر تقسیم کئے تھے اور ریگی علاقے کے علاوه باہر کے لوگوں کو  بهی پیسے دیے تھے۔

ڈاکٹر حماد نے گفتگو کے دوران کہا کے ڈپٹی اسپیکر محمود جان کی کارکردگی قابل ستائش ہےکیوں کہ ان کی بنائے ہوئے جرگے کی بدولت ریگی قومی اتحاد کے مطالبات میں سے اراضی کی پیمائش دوبارہ ہوئی جس میں 200  جرب اراضی زیادہ نکلی اسی طرح ارضی کے فائل ملے جو ان مفاد پرست لوگوں نے چھپائے تھےاور پیسوں کا غیر منصفانہ تقسیم بھی زیر غور ہے.

ڈاکٹر حماد نے کہا کہ انشاءاللہ بہت جلد ریگی تنازعےکوحل کیاجائے گا اور اور ریگی کے عوام کو اپنا صحیح حق مل جائے گاکیوں کہ ہمارا تقریبا ‏80/90  پرسنٹ کام ہوچکا ہے باقی جو رہتا ہے ہم ان کے لئے حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے مسلے کو جلد از جلد حل کیا جائےتاکہ علاقے کا امن وامان بحال رہے۔