چیئر لفٹ آپریشن میں شریک فوجی جوان مبارکباد کے مستحق ہیں، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اللّٰہ کے فضل سے 13 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد پھنسے ہوئے بچوں اور استاد کو بچا لیا گیا، انتہائی مشکل آپریشن کامیابی سے ہمکنار ہو گیا۔ آپریشن میں شریک ہونے والے پاک فوج کے جوان مبارکباد کے مستحق ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 22 اگست 2023 کو تقریباً ساڑھے 7 بجے خیبرپختونخوا کے علاقے الائی ضلع بٹگرام میں ایک کھلی کیبل کار 600 فٹ کی بلندی پر کھائی میں آدھے راستے میں پھنس گئی، چیئر لفٹ میں ایک استاد اور 7 طالبعلم سوار تھے، اس دوران چیئر لفٹ کے تین میں سے دو کیبلز ٹوٹ گئے۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ عارضی کیبل کار قریب ترین روڈ لنک سے 4 گھنٹے کی مسافت پر تھی۔ 10 بجے ضلعی انتظامیہ نے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں فوج کی مدد کی درخواست کی اس کے بعد تمام دستیاب وسائل کو ریسکیو کی کوششوں میں مدد کیلئے منتقل کر دیا گیا۔

آرمی ایوی ایشن اور فضائیہ کے 7 ہیلی کاپٹروں نے ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق انتہائی مشکل ریسکیو مشن کو علاقے میں تیز ہواؤں اور اس طرح کے آپریشن میں شامل خطرات بشمول ہیلی کاپٹر کے روٹر بلیڈز نے لفٹ کو غیر مستحکم کرنے سے مزید دشوار بنا دیا.

انہوں نے کہا ہے کہ انتہائی ہنر مند پائلٹس اور ایس ایس جی دستوں کی انتھک کوششوں کے بعد ایک بچے کو نکال لیا لیکن خراب موسم کی وجہ سے مشن کو منسوخ کرنا پڑا۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ بعد ازاں ایس ایس جی کے دستوں کی طرف سے مزید کوششیں کی گئیں اور اس مقصد کیلئے خصوصی زپ لائنرز ٹیم کو آرمی ہیلی کاپٹروں نے حادثے کے مقام پر پہنچایا، تقریباً 4 گھنٹے کی کوششوں کے بعد تمام پھنسے ہوئے افراد کو بچا لیا گیا۔