سانحہ جڑانوالہ جیسے واقعات کے محرکات کے خاتمے کیلئے کمیٹی قائم

سانحہ جڑانوالہ کی مکمل تحقیقات اور متاثرین کی بحالی کیلئے اور ملک میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور متشددانہ رویوں کے خاتمے کیلئے پاکستان علماء کونسل اور چرچ آف پاکستان کے تحت قائم کی گئی 24 رکنی کمیٹی کا اعلان کر دیا گیا۔

کمیٹی کی سربراہی مشترکہ طور پر حافظ طاہر اشرفی اور بشپ آزاد مارشل کریں گے، کمیٹی میں بشپ علیم انور، بشپ ارشد جوزف، مصور عباسی، پادری عمانوایل کھوکھر، علامہ عارف واحدی، ظہیر عباس، پادری شہزاد گل، پادری عمانوایل لورین، بشپ لیوراڈک پال، بشپ ایلون سیموریل، میڈم مشعل سیموریل، ساحل ایڈووکیٹ، پیر نقیب الرحمن، صاحبزادہ حسان حسیب الرحمن، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ طاہر الحسن، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا محمد اسلم صدیقی، فرزند اسلام، سردار اجمل ایڈووکیٹ، ساجد اقبال ایڈووکیٹ اور دیگر شامل ہیں۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پُرامن اور مستحکم پاکستان بنانے کیلئے لازم ہے کہ تمام طبقات ایک فعال اور بھرپور کردار ادا کریں۔

مسلم و مسیحی قائدین کی 24 رکنی کمیٹی میں دیگر مذاہب کے مقتدر قائدین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ہم معاشرہ میں برداشت، رواداری، تحمل پیدا کرنے کی کوشش کریں، مذہب کے نام پر ذاتی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششوں کی نفی کی جائے گی۔

توہین ناموس رسالت و توہین مذہب کے نام پر غیر قانونی اقدامات کو روکنے کیلئے ہر سطح پر تمام مذاہب کے لوگوں کو فعال کرنے کی کوشش کریں گے، دریں اثناء پاکستان علماء کونسل نے جڑانوالہ سانحہ میں جن بچیوں کا شادی کا جہیز جلا دیا گیا ان کو جہیز مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلہ میں انتظامات کریں گے۔