ایران نے زیر حراست 5 امریکی شہریوں کو جیل سے رہائی کے بعد گھر میں نظر بند کر دیا

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت ایران نے امریکا کے 5 شہریوں کو جیل سے رہا کر کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ 

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے شہریوں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں قید امریکی شہری ابھی گھروں میں نظربند ہیں، امریکی شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

رہائی کے بعد نظر بند کیے گئے  5 میں سے 3 قیدیوں کے نام سیامک نمازی، عماد شرغی اور مراد طہباز بتائے گئے ہیں جبکہ باقی 2 کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

51 سالہ سیامک نمازی کو پہلی بار 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سکیورٹی الزامات پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ 58 سالہ عماد شرغی کی بہن کے مطابق بھائی کو اپریل 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ 67 سالہ تاجر اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہر مراد طہباز کو جنوری 2018 میں ماحولیاتی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکیوں کو ایران چھوڑنےکی اجازت جنوبی کوریا میں ایرانی فنڈز کے 6 ارب ڈالر غیر منجمد ہونے سے مشروط ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا معاہدے کے تحت جیل میں بند کئی ایرانیوں کو بھی رہا کرے گا۔

ایران نے حالیہ برسوں میں قومی سلامتی کے الزامات کے تحت متعدد دوہری شہریت والے افراد کو حراست میں لے کر قید میں رکھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ مارچ میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہو سکتا ہے  لیکن اس وقت امریکا نے ان کے تبصرے  کو غلط قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

تاہم اب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن بار بار مطالبہ ہے کہ قیدیوں کو مکمل طور پر رہا کیا جائے۔