خیبرپختونخوا کی نگران کابینہ کے وزراء کے استعفوں کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

ذرائع کے مطابق نگران ویراعلیٰ خیبر پختو نخوا اعظم خان نے کایبنہ اراکین کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا،  ملاقات میں وزیراعلیٰ نے وزراء پر واضح کیا کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی وابستگی رکھنے والوں کو ہٹانے کے احکامات دیے ہیں اور وہ ان احکامات پر عمل درآمد کے پاپند ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے کابینہ کے وزراء کو بتایا کہ ان کے ساتھ ان کا اچھا وقت گزارا ہے  اس لیے آپ لوگ استعفے دیں ، استعفیٰ نہ دینے والوں کو مجبوراً ڈی نوٹیفائی کیا جائے گا جس پر بیشتر کابینہ ارکان نے وزیراعلیٰ کو اپنے استعفے پیش کیے۔

ذرائع کے مطابق نگران وزیر حامد شاہ نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور کہا کہ میرا کسی جماعت سے تعلق نہیں ہے ۔

اس کے علاوہ نگران وزیر ساول نذیر نے شام تک استعفیٰ دینے کا کہا تھا ۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نگران وزیراعلیٰ اعظم خان کو 19 وزراء اور مشیروں کے استعفے موصول ہوئے ہیں جبکہ 8 کابینہ اراکین نے ابھی تک استعفے نہیں دیے ، 3 وزراء شہر سے باہر ہیں۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد 21 جنوری 2023 کو اعظم خان کو نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تعینات کیا گیا تھا اور انہوں نے اسی روز اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

26 جنوری کو گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے گورنر ہاؤس میں نگران کابینہ سے حلف لیا تھا۔

31 جولائی کو الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو کابینہ سے سیاسی وابستگی رکھنے والے وزراء کو ہٹانےکا کہا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کو خط میں کہا گیا تھا کہ کچھ وزراء، مشیر اور معاونین خصوصی کو سیاسی وابستگی پر بھرتی کیا گیا، سیاست میں ملوث وزراء، معاونین اور مشیروں کو فوری ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔

خط میں قرار دیا گیا کہ بعض وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کا رویہ نگران حکومت کی روح کے منافی ہے۔الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ نگران وزیراعلیٰ اپنی کابینہ کو کم سے کم کریں۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے نگران صوبائی وزیر شاہد خٹک کی عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے جلسے میں شرکت اور خطاب پر نوٹس لیا تھا اور انہیں وزارت سے ہٹانےکا حکم دیا تھا۔