قومی اسمبلی آج تحلیل، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب

قومی اسمبلی آج تحلیل کردی جائے گی جبکہ نگران وزیراعظم کی تعیناتی کامعاملہ آخری مراحل میں داخل ہوگیا۔قومی اسمبلی کے آخری روز پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا لیا گیا۔

وزیراعظم اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجیں گے۔ارکان قومی اسمبلی کے فوٹو سیشن کے وقت میں تبدیلی کی گئی۔اجلاس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔

ذرائع کےمطابق وزیراعظم شہبازشریف نےاتحادیوں سے مشاورت کے بعد نگران وزیراعظم کیلئے عبدالحفیظ شیخ،جسٹس (ر)خلیل الرحمان رمدے اور شاہدخاقان عباسی کے نام شارٹ لسٹ کرلئے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے عبدالحفیظ شیخ کے نام پررضامندی ظاہر کی ہے۔مسلم لیگ (ن) میں عبدالحفیظ شیخ کے نام پرتحفظات ہیں۔ذرائع کے مطابق نوازشریف نے جسٹس (ر)خلیل الرحمان رمدے اورشاہدخاقان عباسی کے نام تجویزکئے ہیں۔ امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

نگران وزیر اعظم اور نگران سیٹ اپ سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جسٹس(ر) مقبول باقر کا نام بھی شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔آج وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈرکیساتھ ملاقات ہوگی۔امکان ہے کہ ان تینوں ناموں میں سے کسی ایک نام پراتفاق کرلیاجائیگا۔

نجی ٹی وی کے مطابق عبدالحفیظ شیخ دوروز قبل پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرراجہ ریاض نےکہاہےکہ نگران وزیراعظم کیلئے 3نام 90فیصدفائنل کرلئے، کوئی سیاستدان شامل نہیں،آج وزیراعظم سے ملاقات ہوگی۔

راجہ ریاض نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا جو نام دے رہا ہوں، اس پر پی ٹی آئی کے اسمبلی میں موجود ارکان راضی ہیں،جماعت اسلامی کے ممبر نے کہا کہ سراج الحق کا نام دے دیں،میرے خیال میں 6 ماہ الیکشن آگے چلے گئے ہیں،حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار کا نام نہیں دیا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق نگران سیٹ اپ ممکنہ طور پر 6سے 10ماہ تک چل سکتا ہے جس کے تحت عام انتخابات آئندہ سال فروری یا مئی میں متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق جو وزارتیں اتحادیوں کے پاس موجودہ حکومت میں ہیں، وہی نگراں سیٹ اپ میں ملیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ اہم اداروں کی چیئرمین شپ بھی اتحادی جماعتوں کو دینے پر اتفاق ہوگیا ہے۔