جنوبی وزیرستان : ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین حکومت کی یقین دہانی کے باوجود تاحال مالی امداد کے منتظر

وانا میں گزشتہ 2سال سے ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین حکومت کی یقین دہانی کے باوجود بھی تاحال مالی امداد کے منتظرہیں، حلقہMNA علی وزیرسے وانا ٹمبرمارکیٹ کے متاثرین نے معاوضہ دینے کی اپیل کردی، نقصانات کی ازالہ کے لئے حکومت نے کئ بار یقین دلایا لیکن وعدوں کے باوجود کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا.

تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان لوئر سب ڈویژن وانا کی سب سے بڑی ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین نے وانا سے پشاور سلام آباد تک ہر سرکاری دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایاہے . لیکن حکومتی حکام کی وعدے ایفاء نہ ہوسکیں.

ٹمبرمتاثرین کے مطابق ہماری مارکیٹ کو چند سال قبل رات کے اندھیرے میں آگ لگنے سے کروڑوں آربوں روپے کا نقصان ہوا تھاکئی یقین دہانیوں کے باوجود کوئی عملی کام نہیں ہوا

ضلعی انتظامی افسر نے جائے وقوع کا دورہ اور یقین دلایا کہ آپ کے نقصان کا ازالہ کریں گے

سابق صوبائی حکومت کے ایم پی اے نصیراللہ خان اور موجودہ حلقہ کے ایم این اے علی وزیر بھی اس ساری صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں.

پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر امان اللہ وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال وانا بازار ٹمبر مارکیٹ میں آگ لگنے سے قیمتی لکڑیاں اور سامان جل گیا تھا لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود کسی نے بھی متاثرین کی مالی امداد نہیں کی یہ ظلم اور ناانصافی ہے

امان اللہ وزیر نے مزید کہا کہ ہم نے اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا ہے، لیکن کسی نے ان کی آواز نہیں سنی

واضح رہے کہ دو سال قبل وانا ٹمبر مارکیٹ میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر دوبار آگ لگ گئی تھی جس سے کروڑوں اربوں روپے کا نقصان ہوا.
متاثرہ افراد نے ڈاکومینٹس کاروائی کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے درخواستیِں دی تاحال امداد کے منتظر ہیں .

متاثرہ شخص رخمان اللہ وزیر نے کہاکہ مشترکہ طور پر ٹمبرمارکیٹ کمیٹی نے تمام ضلعی حکام کے سامنے فائل رکھاہے صوبائی اور وفاقی حکومت بالخصوص حلقہ ایم این اے علی وزیرسے پرزور درخواست کرتے ہیں کہ متاثرہ افراد کو معاوضہ دی جائے .