چار دن میں 54 بل منظور

حکومت نے جاتے جاتے چار دن میں 54 بل منظور کرانے کا ریکارڈقائم کردیا تاہم عجلت میں قانون سازی پر اپوزیشن ارکان کے ساتھ اتحادی بھی مخالف ہوگئے۔

ہفتے بھرکی مہمان حکومت بلوں کا طوفان لے آئی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دھڑا دھڑ بل منظور کیے گئے، حکومت نے چار دن میں چون بل پاس کرانےکاریکارڈقائم کردیا.

پیمرا آرڈیننس ترمیمی بل دو ہزار تئیس بھی قومی اسمبلی سے منظور کرالیا جبکہ پریس کونسل ترمیمی بل2023 بھی منظور کرلیا گیا۔

عجلت میں قانون سازی پر اپوزیشن ارکان کے ساتھ اتحادی بھی مخالف ہوگئے، حکومتی بلز کی منظوری پر جے یو آئی کی عالیہ کامران نے احتجاج کرتے ہوئے کہا اعتماد میں لئے بغیر بلز کی منظوری شروع کردی جاتی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کرتے ہوئے قانون سازی کے عمل پر اعتراض کیا۔

ارکان پارلیمنٹ نے موقف اپنایا کہ نئی قانون سازی کے بلز متعلقہ کمیٹیوں کو بھی نہیں بھیجے جا رہے،ایوان میں بحث بھی نہیں کرائی جا رہی۔

ارکان کا کہنا تھا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بعض شقوں میں توایسے بل بھی پاس کروائے گئے جو ایجنڈے پرموجود ہی نہیں تھے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد نے کہا حکومت جس طرح بلزپاس کرارہی ہے ایوان مزاق بن کر رہ گیا ہے۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کے حوالے سے اتحادی جماعتوں کے اراکین اوراپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا۔

آفیشل سیکریٹ ایکٹ ترمیمی بل کو سینٹ میں شدید مخالفت کا سامنا رہا ، جس پر ترمیمی بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔