باجوڑ؛ جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں خودکش حملہ، 44 افراد جاں بحق

باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کے ورکرز کنونشن میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 44 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔

نیوز کے مطابق دھماکا خیبر ایجنسی میں واقع علاقے خار کے دبئی موڑ کے قریب ہوا جہاں جے یو آئی کا جلسہ جاری تھا، دھماکے اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ادارے وقوعہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

باجوڑ دھماکے کے مزید تین زخمی دم توڑ گئے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 46 ہوگئی۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ باجوڑ دھماکے میں 90 سے زائد زخمی افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 38 میتیں شناخت کے بعد ورثاء اپنے ساتھ لے گئے ہیں جبکہ 8 لاشیں ناقابل شناخت ہونے کے باعث اسپتال میں رکھی ہیں۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ باجوڑ دھماکے میں جاں بحق افراد میں 5 بچے بھی شامل ہیں، دھماکے میں جاں بحق افراد میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی۔

باجوڑ دھماکا خود کش تھا حملہ آور پہلے سے آکر بیٹھا تھا، آئی جی

آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے تصدیق کی کہ باجوڑ دھماکا خود کش تھا جس کے لیے حملہ آور پہلے سے آکر بیٹھا تھا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا نے ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطاب کے دوران حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقوعہ سے جیو فینسنگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

دریں اثنا ڈی پی او باجوڑ نذیر خان نے بھی تصدیق کی ہے کہ حملہ خودکش تھا۔

دھماکے سے متعلق تفصیلات جمع کررہے ہیں، پولیس

اس ضمن میں ڈی آئی جی مالا کنڈ کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں دھماکے سے متعلق معلومات جمع کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکا کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

مولانا ضیا اللہ جان کی ہلاکت کی تصدیق

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باجوڑ سعد خان نے تصیدیق کی کہ جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیاء اللہ جان بھی جاں بحق ہوگئے۔ علاوہ ازیں جے یو آئی کی مرکزی قیادت نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے انصار الاسلام کے کارکنوں سے زخمیوں کے لیے خون دینے کے لیے فوری طور پر ہسپتال پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

آئی جی ایف سی میجر جنرل نور ولی کی باجوڑ آمد

اس حوالے سے بتایا گیا کہ معاملات کی نگرانی کے لیے آئی جی ایف سی میجر جرنل نور ولی باجوڑ پہنچے اور انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ دوسری جانب واقعہ کے بعد پشاور میں سی ایم ایچ اور ایل آر ایچ کو الرٹ کر دیا گیا۔

پاک فوج کا ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔

واقعہ میں سیکیورٹی غفلت پر بھی غور کیا جائے گا، گورنر کے پی 

گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت زخمیوں کے ساتھ تعاون کرے گی جبکہ واقعہ میں سیکیورٹی غفلت اور اجازت نامہ پر بھی غور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال اور واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے گی، ہم اس وقت مریضوں کو سہولیات مہیا کرنے میں مصروف ہیں۔

زخمیوں کی فوجی ہیلی کاپٹر میں منتقلی، آئی جی ایف سی میجر جنرل نور ولی باجوڑ پہنچ گئے

پاک فوج کا ہیلی کاپٹر اسپتال پہنچ گیا اور شدید زخمی افراد کے لیے خار سے پشاور تک سروس کی فراہمی شروع کردی۔

معاملات کی نگرانی کے لیے آئی جی ایف سی میجر جرنل نور ولی باجوڑ پہنچ گئے، پشاور میں سی ایم ایچ اور ایل آر ایچ کو الرٹ کر دیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق 70 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، دھماکے میں اب تک 17 شہادتوں کی تصدیق ہوپائی ہے،

ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنشنز کی ٹیمیں ہسپتال میں موجود ہیں، ریسکیو1122 نے مہمند، لوئر دیر، چارسدہ سے 9 مزید ایمبولینسز ہسپتال پہنچا دی ہیں، شدید 17 زخمیوں کو تیمرگرہ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

باجوڑ دھماکہ خود کش تھا جس کے لیے حملہ آور پہلے سے آکر بیٹھا تھا، آئی جی

آئی جی خیبرپختونخوا اختر حیات خان نے کہا ہے کہ باجوڑ دھماکہ خود کش تھا جس کے لیے حملہ آور پہلے سے آکر بیٹھا تھا۔

باجوڑ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختون خوا نے کہا کہ ہمیں ابتدائی معلومات ملی ہیں جس کے مطابق خطاب کے دوران حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جائے وقوع سے جیو فینسنگ کا عمل شروع کردیا ہے، اب تک 24 افراد دھماکے میں شہید ہوئے ہیں تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

فضل الرحمان کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی سے تحقیقات کا مطالبہ

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ حملے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم اور وزیراعلی کے پی سے افسوس ناک واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند فرمائے، جے یو آئی کے کارکنان ہسپتال پہنچ کر خون کے عطیات فراہم کریں، جے یو آئی کے کارکنان پُرامن رہیں، وفاقی و صوبائی حکومت زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرے۔

سیاسی قائدین اور شہریوں کی حفاظت کی ذمہ دار حکومت ہے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے دھماکے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی قائدین اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے، حملے کا مقصد ملک میں افراتفری کی صورت حال پیدا کرنا ہے، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بم دھماکے کی فوری اور مکمل تحقیقات کروائے۔

پورے ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے، آصف زرداری

سابق صدر آصف علی زرداری نے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد سب کے دشمن ہیں، سوات کی طرح پورے ملک کو دہشت گردی کی نرسریوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم کی تحقیقات اور ذمہ داران کی نشاندہی کی ہدایت

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے باجوڑ میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے جمیعت علماءِ اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے واقعے پر اظہارِ افسوس کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی۔

صدر مملکت کا اظہار مذمت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے باجوڑ میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے.

انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار افسوس کیا اور دعائے مغفرت کی۔ صدر مملکت نے زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعا کی اور بروقت طبی امداد پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔