شہباز شریف کی سویڈن میں قرآن کریم کی بیحرمتی کے ایک اور واقعہ کی شدید مذمت

وزیراعظم شہباز شریف نے سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس شیطانیت کے تدارک کی مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تورات، انجیل اور قرآن کریم کی بے حرمتی کی اجازت دینے کے فیصلے کو تبدیل کرنے کی مہم چلائیں گے، مقدس کتابوں، ہستیوں اور شعائر کی بے حرمتی اظہار کی نہیں دنیا کو مستقل آزار دینے کی آزادی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعات کا تسلسل اور ترتیب ثبوت ہے کہ یہ اظہار کا نہیں بلکہ سیاسی اور شیطانی ایجنڈے کا حصہ ہے، پورے عالم اسلام اور مسیحی دنیا کو مل کر اس سازش کو روکنا ہوگا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شیطان کے پیروکار اُس کتاب کی بے حرمتی کر رہے ہیں، جس نے انسانوں کو عزت دی، حقوق اور رہنمائی دی، تورات اور انجیل کی بے حرمتی کی اجازت دینے کے فیصلے سے بے حرمتی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی، یہ نفرت کا فروغ ہے، جس کی عالمی قانون اجازت نہیں دیتا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ مذہبی جذبات بھڑکانے، اشتعال انگیزی، دہشت گردی اور تشدد پر اکسانے کے یہ رویئے دنیا کے امن کے لئے مہلک خطرہ ہیں، یہ رویئے قانونی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے ہی شدید قابل نفرت اور قابل مذمت ہیں۔

دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ نے بھی سویڈن میں قرآن پاک کی سرعام بے حرمتی کے ایک اور اسلامو فوبک فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہراء بلوچ کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے اور احتجاج کی آڑ میں مذہبی منافرت پر مبنی اور اشتعال انگیز کارروائیاں کرنے کی اجازت کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون ریاستوں کیلئے مذہب، عقیدے کی بنیاد پر نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد پر اکسانے کو ممنوع قرار دیتا ہے، اس قسم کے اقدامات قانونی اور اخلاقی طور پر قابل مذمت ہیں، عالمی برادری ان اسلامو فوبک کارروائیوں کی واضح طور پر مذمت کرے۔

دسرے جانب پاکستان نے سویڈن میں قرآن پاک کی سرعام بے حرمتی کے ایک اور اسلامو فوبک فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہراء بلوچ کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے اور احتجاج کی آڑ میں مذہبی منافرت پر مبنی اور اشتعال انگیز کارروائیاں کرنے کی اجازت کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ممتاز زہراء کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون ریاستوں کے لئے مذہب، عقیدے کی بنیاد پر نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد پر اکسانے کو ممنوع قرار دیتا ہے، اس قسم کے اقدامات قانونی اور اخلاقی طور پر قابل مذمت ہیں، عالمی برادری ان اسلامو فوبک کارروائیوں کی واضح طور پر مذمت کرے۔

انہوں نے کہا کہ تمام ممالک مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو الگ تھلگ کرنے کا آغاز کریں، پاکستان تمام ممالک سے مذاہب، عقائد اور ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ سویڈش حکام نفرت اور اشتعال انگیزی کی ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے، تازہ ترین واقعے پر پاکستان کے تحفظات سے سویڈش حکام کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں عراقی سفارت خانے کے باہر تارکِ وطن عراقی شخص نے ایک مرتبہ پھر قرآن مجید کی توہین کی ہے۔