خیبر پختونخوا، نگراں وزیر صنعت کابینہ سے فارغ

گورنر خیبر پختونخوا نے اعصاب شکن مشاورت اور انتظار کے بعد بالآخر نگراں وزیر صنعت و فنی تعلیم عدنان جلیل کو کابینہ سے فارغ کرنے سے متعلق نگران وزیراعلیٰ اعظم خان کی جانب سے ارسال کردہ سمری پر دستخط کردیے، جس کے ساتھ ہی نگران وزیر اپنے عہدہ سے فارغ ہوگئے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے دو مرتبہ نگران وزیرعدنان جلیل کو ان کے عہدہ سے فارغ کرنے سے متعلق وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کردہ سمری اعتراضات لگاتے ہوئے واپس کی تاہم اب انہوں نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت گورنر کابینہ اور وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر عمل کرنے کے پابند ہیں، جسے مد نظر رکھتے ہوئے ہی گورنر نے سمری پر دستخط کیے۔

اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ نگراں صوبائی وزیر کا نام اے این پی نے واپس لیا ہے، تکلیف جے یو آئی کو ہورہی ہے، عوام کو سمجھ آنی چاہیے کہ ہم اپنے تجویز کردہ نگران وزیر کے نام سے کیوں دستبردار ہوئے؟

اے این پی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ پارٹی کے بڑے فورمز پر متعلقہ وزیر اور گورنر کے خلاف مسلسل شکایات آرہی تھیں، شکایات کی وجہ سے پارٹی کو مجبوراً نگراں وزیر کیلئے اپنا تجویز کردہ نام واپس لینا پڑا، حاجی عدیل عوامی نیشنل پارٹی کا فخر تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، حاجی عدیل کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی نے انکے فرزند کا نام بطور نگراں وزیر تجویز کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق عدنان جلیل کو کابینہ سے فارغ کرنے کے بعد آئینی طور پر مزید ایک وزیر کو کابینہ کا حصہ بنانے کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے جس کے لیے معاون خصوصی برائے کھیل وامور نوجوانان مطیع اللہ کا نام فائنل کیا گیا ہے۔

مطیع اللہ وزارت کا حلف جلد اٹھائیں گے جنھیں پہلے سے ان کے پاس موجود محکموں کے علاوہ صنعت وحرفت کے محکمہ کا قلمدان بھی حوالے کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی کیجانب سے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے اشرف اللہ داوڑ کا نام بطور معاون خصوصی تجویز کیا گیا ہے جنھیں حکومتی ٹیم کا حصہ بناتے ہوئے انھیں فنی تعلیم کے محکمہ کا قلمدان حوالے کیاجائے گا۔