پشاور میں ایف سی کی گاڑی پر خودکش حملہ، 8 زخمی

پشاور حیات آباد میں ایف سی کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکے میں ایف سی اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آور ہلاک ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کے علاقے حیات آباد فیز سکس میں ایف سی کی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 8 افراد زخمی ہوگئے، اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز، فائر وہیکل اور سیکیورٹی ادارے موقع پر پہنچے۔

امدادی ادارے نے 8 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جنہیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا۔ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں مرنے والا شخص خودکش حملہ آور تھا۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد اکبر خان نے تصدیق کی کہ اسپتال میں دھماکے سے زخمی ہونے والے دو افراد کو لایا گیا اور دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باقی زخمیوں کو دوسرے اسپتال، سی ایم ایچ لے جایا گیا ہے۔

ایس پی کینٹ وقاص رفیق کے مطابق دھماکا ایف سی کی گاڑی پر ہوا، دھماکا خودکش لگتا ہے جو کہ شلمان پارک کے قریب ہوا، دھماکے میں ایف سی کی گاڑی کو ٹارگٹ کیا گیا۔

اطلاعات ہیں کہ دھماکے میں دو ایف سی اہلکار زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آور گاڑی میں تھا، جس کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ تفتیشی کیلیے جائے وقوعہ پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے کو بھی طلب کرلیا گیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق نئی بننے والی عسکری تنظیم تحریک جہاد پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بم ڈسپوزل کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پشاور دھماکے میں گاڑی کی ٹنکی میں بارود رکھا گیا، سی این جی سلنڈر میں 20 سے 25 کلو بارود موجود تھا جبکہ واردات میں  ہائی ایکسپلسیو بارود استعمال کیا گیا۔

بی ڈی یو کے مطابق دھماکے میں خود کش جیکٹ کے استعمال کے شواہد نہیں ملے۔