پشاور میں اساتذہ کے دھرنے پر پولیس کا ایکشن، 60 گرفتار

پشاور میں 31 سال سے ترقیوں کے منتظر احتجاجی اساتذہ کے خلاف پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 60 مظاہرین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔

پشاور میں گزشتہ تین روز سے احتجاج پر بیٹھے ایس ایس ٹیز اساتذہ کیخلاف پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 60 مظاہرین کو گرفتار کیا۔

پولیس نے گرفتار اساتذہ کے خلاف مقدمات درج کر کے انہیں متعلقہ تھانوں میں منتقل کردیا۔ اساتذہ کی تنظیم کے صوبائی صدر نے مظاہرین کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن ہے جو مطالبات کے حق تک جاری رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اساتذہ کو منتشر کرنے کے لیے بدترین لاٹھی چارج اور شیلنگ بھی کی جبکہ متعدد مظاہرین کو اہلکاروں نے اسکول میں بند کیا۔

دھرنا پر امن ہونے کے باوجود پولیس اور انتظامیہ ناروا سلوک کر رہی ہے۔ اکتیس سال سے ترقی کے منتظر اساتذہ اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد پولیس نے ایکشن کیا، جس کے بعد صوبائی صدر ذوالفقاری نے مفتی محمود مرکز جانے کا اعلان کیا۔

بعد ازاں احتجاجی مظاہرین نے مفتی محمود مرکز کے سامنے دھرنا دیا جہاں پولیس کی بھاری نفری پہنچی۔ دھرنے کی وجہ سے رنگ روڈ پر ٹریفک جام ہوا جس کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں مشکل ہوئی۔ ایس ایس ٹیز کے صوبائی صدر اپنے وفد کے ہمراہ اعلی حکام سے مذاکرات کے لیے روانہ ہوئے۔