پشتو کے عظیم شاعر غازی سیال علیل ہوگئے، کوئی پرسان حال نہیں

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو کے عظیم شاعر غازی سیال نہایت علیل ہو گئے لیکن حکومت کو ان کی کوئی فکر نہیں ، پشتو شاعر ، ناول نگار غازی سیال اس وقت پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بے یار و مدد گار علاج کی غرض سے پڑے ہیں۔

موصوف نے 75سالہ زندگی میں 16کتابیں لکھیں اسی طرح 50 سے زائد کلاسیکل فلمیں لکھیں اُن کے مطابق علاج پر لاکھوں خرچہ آ تاہے لیکن نہ کوئی حکومتی نمائندہ بیمارپرسی کیلئے آیا اور نہ ہنر مند یا ثقافتی اداروں نے ان کی کوئی امداد کی بنوں سے روزانہ کی بنیاد پر ادبی دوست ، شاگرد وفود کی شکل میں اُن کی بیمار پرسی کیلئے پشاور جاتے ہیں۔

اُنہوں نے بھی حکومت کی طرف سے غازی سیال کی کوئی امداد نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ذرائع کے مطابق محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر شمع نعمت ان کی بیمار پرسی کیلئے تو گئے لیکن کوئی امداد نہیں کی بلکہ صرف یقین دہانی کرائی ہے۔

بنوں سے تعلق رکھنے والے مشران حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ ، حاجی نواب خان ،حاجی عبدالمتین خان، اقوام عیسکی کے سربراہ ملک شکیل خان ، ملک عدنان خان ،حاجی گل باز خان ، سابق ایم پی اے اعظم خان درانی، صدر پریس کلب محمد عالم خان ، اقوام ہنجل کے سربراہ حاجی فرید خان ، انجینئر ملک احسان ، ملک یوسف خان و دیگر نے فخر بنوں اور ادب کے شہسوارشاعر غازی سیال کے علاج کیلئے حکومت سے اپیل کی ہے ۔