پختونخوا میں انتخابات سے قبل جے یو آئی اور اے این پی کے درمیان لفظی گولہ باری

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر  ایمل ولی خان کے بیان پر جے یو آئی کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کے سر پر اب آئندہ عام انتخابات کی شکست کا خوف سوار ہے۔

عبدالجلیل جان  کے مطابق جے یو آئی قائدین کے خلاف بیانات دیکر ایمل ولی خان اپنا قد بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایمل ولی خان کے مولانا فضل الرحمان سے متعلق ریمارکس کسی تربیت یافتہ سیاستدان کے نہیں بلکہ غیر سنجیدہ شخص کی بھڑک ہے۔

ترجمان جے یو آئی کا کہنا ہے کہ اے این پی چارسدہ اور  مردان تک محدود ہو چکی لیکن  لگتا ہے کہ اب ان اضلاع سے بھی فارغ ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات کی مہم کے موقع پر صوبے کے گورنر کے لیےحاجی غلام علی کا نام ایمل ولی خان نے پیش کیا تھا، اب ان کے مخالف بیانات دیکر اپنی غلطی کا ڈھنڈورا بھی پیٹ رہے ہیں۔

عبدالجلیل جان نے کہا کہ ایمل ولی خان ہمت کرکے پارٹی کی صوبائی صدارت سے استعفیٰ دیں اور کسی سنجیدہ شخص کو یہ منصب حوالے کر دیں، ایمل ولی خان کے غیر سنجیدہ بیانات پوری اے این پی کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں خوشگوار سیاسی ماحول کو کس کے اشارے پر پراگندہ کیا جارہاہے۔