فنانس ایکٹ 2023ء پر عملدرآمد شروع، 50 کروڑ سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس نافذ

نئے فنانس ایکٹ 2023ء پر عمل درآمد شروع ہوگیا، زیادہ آمدن پر اضافی سپر ٹیکس نئی شرح سے نافذ کر دیا گیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایکٹ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا، اب 30 کروڑ کی بجائے 50 کروڑ سالانہ آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس نافذ ہوگا۔ بینکنگ کمپنیوں کی 30 کروڑ سے زیادہ آمدن پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگ گیا، سالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 0 سطح پر برقرار رکھی گئی ہے۔

بڑے شعبوں میں 30 کروڑ سے زیادہ کمانے پر بھی 10 فیصد وصولی ہوگی، ایئر لائنز، آٹو موبائلز، بیوریجز، سیمنٹ، کیمیکلز، سگریٹ، تمباکو سیکٹر، فرٹیلائزر، لوہا، اسٹیل، ایل این جی ٹرمینل، آئل مارکیٹنگ، آئل ریفائنری، پیٹرولیم، گیس، ادویہ سازی، شوگر، ٹیکسٹائل پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس نافذ ہوگا۔

40 کروڑ سے 50 کروڑ کمانے والی کمپنیوں کو 8 فیصد سپر ٹیکس دینا ہوگا، 35 کروڑ سے 40 کروڑ آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 4 سے بڑھ کر 6 فیصد ہوگئی۔ سالانہ 30 کروڑ سے 35 کروڑ روپے آمدن پر 4 فیصد سپر ٹیکس شرح برقرار رکھی گئی ہے جبکہ سالانہ 25 کروڑ سے 30 کروڑ آمدن پر 3 فیصد سپر ٹیکس شرح لاگو رہے گی۔

سالانہ 20 کروڑ سے 25 کروڑ روپے آمدن پر 2 فیصد سپر ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور سالانہ 15 کروڑ سے 20 کروڑ روپے آمدن پر 1 فیصد سپر ٹیکس برقرار ہے جبکہ سالانہ 15 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح صفر سطح پر برقرار ہے۔