وسطی کرم میں کوئلے کی کان کا آغاز

ماضی میں دہشتگردوں کی پناہ گاہ اور اقتصادی لحاظ سے پسماندہ سمجھے جانے والے وسطی کرم میں 16 سال بعد پاک فوج کے تعاون سے کوئلے کی کان کا آغاز ہوگیا۔

وسطی کرم میں موجود 170 کانوں میں سے 62 کوئلے کی کانوں کا افتتاح کر دیا گیا۔ کوئلہ کان میں لگ بھگ 650 سے زائد مزدور مختلف علاقوں میں موجود کانوں میں کام کر رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزدوروں اور روزگار کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کوئلہ کان کی سرگرمیوں کی وجہ سے تقریباً 5000 سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے کُرم سے دہشتگردی کا خاتمہ بھی کیا۔ 2500 سے زائد خاندان کان کنی کے روزگار سے مستفید ہو رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ابتداء میں خاصی مشکلات تھیں مگر اب مقامی حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں سے ہمارے کافی مسائل حل ہوچکے ہیں۔

علاقے سے باہر بھی متعدد افراد کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ علاقے کے لوگوں کی دیگر مشکلات میں بھی کافی حد تک کمی آئی ہے جس پر علاقہ مکین پاک فوج کی کاوشوں کے معترف ہیں۔